پیر , اپریل 13 2026

رمضان ریلیف پیکج 2026: 19 ارب روپے فوری منظور

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے بدھ کے روز وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج (PMRRP) 2026 کے لیے 19 ارب روپے فوری طور پر جاری کرنے کی منظوری دے دی، تاکہ مستحق افراد کو رقوم کی بروقت ادائیگی کا عمل شروع کیا جا سکے۔

اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے بذریعہ ویڈیو لنک کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان، متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے وفاقی سیکریٹریز اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ای سی سی نے وزارتِ تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ کی جانب سے پیش کردہ سمری پر غور کیا جس میں وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج 2026 کے لیے 25 ارب روپے کی منظوری طلب کی گئی تھی۔ فنانس ڈویژن نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ موجودہ مالی سال میں رمضان پیکج کے لیے 19 ارب روپے پہلے ہی بجٹ میں مختص کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی رقم ضرورت کے مطابق جاری کی جائے گی۔

کمیٹی نے فوری طور پر 19 ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دے دی تاکہ ادائیگیوں کا عمل بلا تاخیر شروع کیا جا سکے۔ مزید برآں طے پایا کہ اضافی فنڈز کا اجراء ضرورت اور دستیاب مالی گنجائش کے مطابق کیا جائے گا۔

اجلاس میں سمری میں شامل آپریشنل اخراجات پر بھی غور کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ شراکت دار مالیاتی اداروں کو ادائیگیوں اور آگاہی و تشہیر سے متعلق اخراجات کی تفصیلی تفریق فراہم کی جائے۔ ای سی سی نے ایک ارب روپے کے آپریشنل اخراجات کی اصولی منظوری دی، تاہم اس کی حتمی منظوری تفصیلی معلومات فنانس ڈویژن کو فراہم کرنے سے مشروط قرار دی گئی تاکہ اخراجات حقیقی ضرورت اور مالی قواعد کے مطابق ہوں۔

کمیٹی نے ادائیگیوں کے فوری آغاز کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے ری اپروپری ایٹڈ فنڈز کے ذریعے پہلے سے اٹھائے گئے اقدامات کی توثیق بھی کی۔ یہ بھی طے پایا کہ تمام اخراجات پاکستان کے مالیاتی وعدوں کے مطابق کیے جائیں گے اور غیر استعمال شدہ رقوم مقررہ طریقہ کار کے تحت واپس کر دی جائیں گی۔

سمری کے مطابق وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج 2026 کا مجموعی حجم 39 ارب روپے ہے۔ اس میں سے 10 ارب روپے پہلے ہی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے پاس موجود ہیں، جبکہ 29 ارب روپے تین مختلف اجزاء کے ذریعے فراہم کیے گئے ہیں جن پر آج ای سی سی نے غور کیا، جن میں ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ، آپریشنل اخراجات اور ری اپروپری ایٹڈ فنڈز کی ریگولرائزیشن شامل ہیں۔ یہ مالیاتی ڈھانچہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ پیکج مکمل طور پر وسائل سے لیس ہو اور مالیاتی نظم و ضبط و شفافیت برقرار رہے۔

ای سی سی نے رمضان المبارک کے دوران مستحق طبقات کو بروقت اور باوقار معاونت فراہم کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا، جبکہ مالی ذمہ داری اور سخت نگرانی کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا۔ کمیٹی نے تیز رفتار ادائیگیوں اور مالی احتیاط و شفافیت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔

وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج 2026 کا مقصد ماہِ رمضان کے دوران کم آمدنی والے اور کمزور خاندانوں کو ہدفی مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ مستحقین کے انتخاب میں شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (NSER) کے ڈیٹا کو استعمال کیا جائے گا، تاکہ صوابدیدی فیصلوں کا خاتمہ اور احتساب کو مضبوط بنایا جا سکے۔ پیکج کے تحت شناخت شدہ کم آمدنی والے گھرانوں کو ایک مرتبہ نقد امداد فراہم کی جائے گی اور موجودہ سماجی تحفظ پروگراموں کو بھی تقویت دی جائے گی، جبکہ رقوم کی ادائیگی براہِ راست بینکاری اور ڈیجیٹل ذرائع سے کی جائے گی تاکہ محفوظ اور مؤثر ترسیل یقینی بنائی جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

کراچی میں آج دو اہم پی ایس ایل میچز

پی ایس ایل 2026 کے دو میچ آج کراچی میں ہوں گے جہاں ٹیمیں پوائنٹس …