انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ

پاکستان میں گرمیوں کا موسم آتے ہی آموں کی بہار شروع ہو جاتی ہے اور ملک بھر کی منڈیوں میں سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں سے لذیذ آم فروخت کے لیے پہنچتے ہیں۔
تاہم ماہرین صحت اور فوڈ سیفٹی حکام کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر آموں کو قدرتی طریقے کے بجائے خطرناک کیمیکلز، خصوصاً پوٹاش (کیلشیم کاربائیڈ) اور دیگر مصنوعی مادوں کے ذریعے جلدی پکایا جاتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
زرعی ماہرین کے مطابق قدرتی طور پر آم درخت سے توڑے جانے کے بعد ایتھائلین گیس کے اخراج کے ذریعے بتدریج پکتے ہیں، لیکن منافع میں اضافے اور جلد مارکیٹ تک رسائی کے لیے بعض تاجر ممنوعہ کیمیکلز استعمال کرتے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مادہ کیلشیم کاربائیڈ ہے، جسے عام زبان میں کئی علاقوں میں “پوٹاش” بھی کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق کیلشیم کاربائیڈ نمی کے ساتھ مل کر ایسیٹیلین گیس خارج کرتا ہے جو پھل کو بظاہر جلد پکا دیتی ہے، لیکن اس عمل کے دوران آرسینک اور فاسفورس جیسے زہریلے اجزا بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ ان کیمیکلز کے مسلسل استعمال سے سر درد، چکر آنا، متلی، معدے کی خرابی، سانس لینے میں دشواری اور جلدی الرجی جیسی شکایات پیدا ہو سکتی ہیں۔ طبی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ طویل عرصے تک ایسے پھلوں کا استعمال جگر، گردوں اور اعصابی نظام کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
پاکستان فوڈ اتھارٹیز اور محکمہ زراعت متعدد بار عوام کو آگاہ کر چکے ہیں کہ مصنوعی طریقے سے پکائے گئے پھلوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، تاہم ملک کے مختلف شہروں میں اب بھی یہ غیر قانونی عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ ہر سال فوڈ سیفٹی ٹیمیں گوداموں اور پھل منڈیوں پر چھاپے مار کر بڑی مقدار میں ممنوعہ کیمیکلز برآمد کرتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی اور کیمیکل سے پکائے گئے آموں میں چند واضح فرق موجود ہوتے ہیں۔ قدرتی آم کا رنگ یکساں نہیں ہوتا بلکہ اس پر ہلکے سبز اور زرد شیڈز دکھائی دیتے ہیں، جبکہ مصنوعی طریقے سے پکایا گیا آم اکثر غیر معمولی طور پر مکمل زرد نظر آتا ہے۔ قدرتی آم میں خوشبو نمایاں ہوتی ہے جبکہ کیمیکل سے پکائے گئے آم میں خوشبو کم یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔
اسی طرح قدرتی آم کا گودا اندر سے یکساں پکا ہوا اور رسیلا ہوتا ہے، جبکہ مصنوعی طریقے سے پکائے گئے آم کا بیرونی حصہ نرم اور اندرونی حصہ بعض اوقات سخت یا کچا رہ جاتا ہے۔ اگر آم کی سطح پر سفید سفوف یا غیر معمولی دھبے نظر آئیں تو اسے احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔
ماہرین صحت شہریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ آم خریدنے کے بعد انہیں چند گھنٹے صاف پانی میں بھگو کر رکھیں اور پھر اچھی طرح دھو کر استعمال کریں۔ کٹے ہوئے یا غیر معمولی رنگ والے آم خریدنے سے گریز کیا جائے اور حتیٰ الامکان مستند دکانداروں یا براہ راست باغات سے پھل خریدا جائے۔
زرعی ماہرین کے مطابق اگر کسان اور تاجر قدرتی پکاؤ کے جدید طریقے، مثلاً محفوظ ایتھائلین چیمبرز، استعمال کریں تو نہ صرف پھل کا معیار بہتر رہتا ہے بلکہ صارفین کی صحت بھی محفوظ رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور عوامی آگاہی مہمات ہی اس خطرناک رجحان کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
پاکستان میں آم کو “پھلوں کا بادشاہ” کہا جاتا ہے اور ملک دنیا کے بڑے آم پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے ماہرین کا اصرار ہے کہ اس قیمتی زرعی پیداوار کو محفوظ اور صحت بخش انداز میں صارفین تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
UrduLead UrduLead