پیر , فروری 23 2026

آئی ایم ایف کو احتساب اصلاحات پلان پیش

پاکستان نے آئی ایم ایف کو نیب چیئرمین تقرری اور ریگولیٹری اصلاحات سے متعلق ایکشن پلان پیش کر دیا، جس میں وفاقی افسران کے اثاثے شائع کرنے اور رسک بیسڈ ویریفکیشن نظام متعارف کرانے کا وعدہ شامل ہے۔

پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ International Monetary Fund کے ساتھ طرز حکمرانی اور احتساب سے متعلق اہم اصلاحاتی اقدامات شیئر کر دیے ہیں۔ حکومت نے قومی احتساب بیورو National Accountability Bureau کے چیئرمین کی تقرری کے طریقہ کار کا جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس تجویز کو وفاقی کابینہ کے سامنے منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کا جائزہ مشن 25 فروری سے 11 مارچ 2026 تک پاکستان کا دورہ کرے گا۔ وفد 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام کا جائزہ لے گا۔ اس کے علاوہ 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسلٹی کے اہداف بھی جانچے جائیں گے۔ پاکستان نے یہ سہولت 2024 میں شدید بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کے بعد حاصل کی تھی۔

وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق گورننس اینڈ کرپشن ڈائگناسٹکس رپورٹ پر پیش رفت اس دورے کا مرکزی نکتہ ہوگی۔ آئی ایم ایف نے 2023 میں پاکستان کے لیے بدعنوانی اور ادارہ جاتی کمزوریوں پر جامع تشخیص مکمل کی تھی۔ رپورٹ میں ریگولیٹری اداروں کی خودمختاری اور تقرریوں میں شفافیت بڑھانے کی سفارش کی گئی تھی۔

پاکستان نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان Competition Commission of Pakistan، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان Securities and Exchange Commission of Pakistan اور نیب کے سربراہان کی تقرری کے قانونی فریم ورک کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا ہے۔ مقصد میرٹ پر مبنی انتخاب کو یقینی بنانا اور سیاسی مداخلت کم کرنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات 27 جون تک مکمل کیے جائیں گے۔

ایس ای سی پی کے لیے مجوزہ ترمیمی بل میں چیئرمین کی تقرری کو ضابطہ بند کرنے کی تجویز شامل ہے۔ ایک سلیکشن کمیٹی امیدواروں کی نشاندہی اور سفارش کرے گی۔ وفاقی حکومت قواعد جاری کرے گی جن میں مدت مکمل ہونے سے کم از کم تین ماہ قبل تقرری کا آغاز لازم ہوگا۔ سالانہ گورننس اور شفافیت رپورٹ کی اشاعت بھی لازمی قرار دی جائے گی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں کی نگرانی ایس ای سی پی کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ایس ای سی پی تقریباً 80 ہزار رجسٹرڈ کمپنیوں کو ریگولیٹ کرتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ قیادت میں خلا کم ہونے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

کمپیٹیشن ایکٹ 2010 میں ترمیم کے ذریعے سی سی پی کے چیئرپرسن کی خودمختار تقرری ممکن بنائی جائے گی۔ قواعد میں تقرری کا واضح طریقہ کار شامل ہوگا۔ سالانہ گورننس رپورٹ کی اشاعت کو بھی لازمی بنایا جائے گا۔ سی سی پی ملک میں کارٹیلائزیشن اور اجناس کی منڈیوں میں مسابقت کی نگرانی کرتا ہے۔

نیب چیئرمین کی تقرری کے عمل پر باضابطہ جائزہ مکمل ہونے کے بعد مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کے مطابق مقصد ادارے کی ساکھ بہتر بنانا اور احتسابی عمل کو شفاف بنانا ہے۔ نیب گزشتہ دہائی میں سیاسی تنازعات کا مرکز رہا ہے، جس پر منتخب نمائندوں نے جانبداری کے الزامات عائد کیے تھے۔

پاکستان نے اعلیٰ وفاقی سول سرونٹس کے اثاثہ جات کے گوشوارے 2026 میں شائع کرنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ اثاثوں کی خطرات پر مبنی تصدیقی نظام متعارف کرایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ نظام بے قاعدگیوں کی نشاندہی میں مدد دے گا اور احتسابی عمل کو ڈیجیٹل بنیاد فراہم کرے گا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان State Bank of Pakistan کے مطابق ملک کو بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ اور مالیاتی خسارے کا سامنا ہے۔ مالی سال 2023-24 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم ہوا، تاہم زرمبادلہ ذخائر اب بھی دباؤ میں ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحات کا تسلسل مالی استحکام کے لیے ضروری سمجھا جا رہا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ریگولیٹری اداروں کی خودمختاری سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بناتی ہے۔ شفاف تقرریاں اور جوابدہی کا نظام مارکیٹ کے اعتماد کو تقویت دیتا ہے۔ آئی ایم ایف جائزہ مشن کی کامیابی پاکستان کے لیے اگلی قسط کے اجرا میں اہم کردار ادا کرے گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ طرز حکمرانی میں بہتری اور احتسابی ڈھانچے کی مضبوطی معیشت کی بحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ آئندہ ہفتوں میں قانون سازی اور قواعد کے نوٹیفکیشن اس پیش رفت کا عملی امتحان ہوں گے، جب کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جاری پروگرام میں اصلاحات کی رفتار مرکزی حیثیت رکھے گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

انگلینڈ کی سری لنکا کو 51 رنز سے شکست

ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کے سپر ایٹس میں انگلینڈ نے 146 رنز کا دفاع کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے