پیر , اپریل 13 2026

فیصل ٹاؤن پر 41 کروڑ کی ٹیکس ڈیمانڈ

فیصل ٹاؤن پرائیویٹ لمیٹڈ کو ٹیکس ایئر 2023 کیلئے Rs406.23 ملین کی ڈیمانڈ جاری، کمپنی نے ود ہولڈنگ ٹیکس کی مبینہ خلاف ورزیوں پر اپیل دائر کر دی۔

Federal Board of Revenue نے اسلام آباد کے رہائشی منصوبے Faisal Town (Private) Limited کے خلاف Rs406.23 ملین کا ٹیکس ڈیمانڈ جاری کر دیا ہے۔ یہ کارروائی ٹیکس ایئر 2023 سے متعلق ہے اور اس میں ڈیفالٹ سرچارج بھی شامل ہے۔

لارج ٹیکس پیئر آفس اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر ان لینڈ ریونیو نے 31 جنوری 2026 کو آرڈر جاری کیا۔ حکم نامہ انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکشن 161 اور 205 کے تحت جاری ہوا۔ سیکشن 161 ود ہولڈنگ ایجنٹ کی ذمہ داری عائد کرتا ہے جبکہ سیکشن 205 غیر ادا شدہ ٹیکس پر سرچارج کی اجازت دیتا ہے۔

ذرائع کے مطابق کمپنی نے پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر سیکشن 236K اور 236C کے تحت ایڈوانس ٹیکس کی کٹوتی کی۔ تاہم ایف بی آر کا مؤقف ہے کہ ود ہولڈنگ ایجنٹ کے طور پر ذمہ داریاں مکمل نہیں کی گئیں۔ الزام ہے کہ بروکرز اور انٹرمیڈیریز کو ادائیگیوں کی دستاویزات نامکمل رہیں۔

ٹیکس حکام نے ود ہولڈنگ اسٹیٹمنٹس بروقت جمع نہ کرانے اور کٹوتی شدہ ٹیکس کی تاخیر سے ادائیگی کا بھی الزام لگایا ہے۔ ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ایسے خلا سے اعلیٰ مالیت کی رئیل اسٹیٹ ٹرانزیکشنز میں شفافیت متاثر ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق یہ معاملہ ممکنہ ریونیو لاس سے جڑا ہوا ہے۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر پاکستان میں ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کوششوں کا مرکز رہا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق مالی سال 2023-24 میں ڈائریکٹ ٹیکس وصولیاں Rs3.3 کھرب سے تجاوز کر گئیں۔ حکومت نے پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر ایڈوانس ٹیکس کی شرحوں میں بھی حالیہ برسوں میں ردوبدل کیا ہے تاکہ دستاویزی معیشت کو فروغ دیا جا سکے۔

فیصل ٹاؤن نے اس آرڈر کو چیلنج کرتے ہوئے کمشنر ان لینڈ ریونیو (اپیلز) اسلام آباد کے سامنے اپیل دائر کر دی ہے۔ کمپنی نے آرڈر کو غیر قانونی اور دائرہ اختیار سے تجاوز قرار دیا ہے۔ اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سیکشن 161 کا اطلاق آرڈیننس کی روح کے منافی کیا گیا۔

کمپنی کے مطابق متعلقہ ٹرانزیکشنز کی وضاحت نہیں کی گئی۔ مبینہ ادائیگیوں کے حاصل کنندگان کے نام اور پتے فراہم نہیں کیے گئے۔ اپیل میں کہا گیا کہ کسی مخصوص ڈیفالٹ کا ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور رول 44(4) کے تحت مناسب ری کنسیلی ایشن نہیں کی گئی۔

کمپنی نے یہ بھی مؤقف اپنایا کہ سنوائی کا مناسب موقع فراہم نہیں کیا گیا۔ سیکشن 205 کے تحت عائد کردہ ڈیفالٹ سرچارج کو بھی غیر منصفانہ قرار دیا گیا ہے۔ فیصل ٹاؤن نے اپیل میں مطالبہ کیا کہ Rs406,233,613 کی مکمل ڈیمانڈ اور سرچارج ختم کیا جائے۔

فیصل ٹاؤن سیکٹر F-18 اسلام آباد میں واقع بڑا نجی ہاؤسنگ منصوبہ ہے۔ منصوبہ ایم-1 موٹروے کے قریب واقع ہے اور دارالحکومت سے براہ راست رسائی رکھتا ہے۔ کیپیٹل ریجن میں رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری میں بیرون ملک پاکستانیوں کی دلچسپی نمایاں رہی ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق تعمیرات اور رئیل اسٹیٹ ملکی جی ڈی پی میں تقریباً 2% حصہ ڈالتے ہیں۔ تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ اس شعبے میں ٹیکس تعمیل تاریخی طور پر کم رہی ہے۔ حکومت نے حالیہ بجٹ میں رئیل اسٹیٹ لین دین کی نگرانی سخت کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ کیس اب اپیل کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ حتمی فیصلہ اپیلٹ اتھارٹی کرے گی جو دونوں فریقین کے دلائل سنے گی۔ ایف بی آر کی جانب سے رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں ود ہولڈنگ ٹیکس کی سخت نگرانی آئندہ مہینوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے، جبکہ فیصل ٹاؤن کا کہنا ہے کہ وہ قانونی چارہ جوئی کے ذریعے اپنا مؤقف ثابت کرے گا۔

About Aftab Ahmed

Check Also

کراچی میں آج دو اہم پی ایس ایل میچز

پی ایس ایل 2026 کے دو میچ آج کراچی میں ہوں گے جہاں ٹیمیں پوائنٹس …