جمعہ , جنوری 30 2026

فیصل ٹاؤن کے خلاف مبینہ لینڈ فراڈ پر مقدمہ درج

راولپنڈی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) نے ہاؤسنگ اسکیم “فیصل ٹاؤن” کی انتظامیہ کے خلاف بڑے پیمانے پر قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مبینہ فراڈ، غیر قانونی پلاٹ فروخت کرنے اور منظور شدہ ترقیاتی نقشوں کی خلاف ورزیوں پر باقاعدہ مقدمہ درج کرا دیا ہے۔

فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر نمبر 15/26) 25 جنوری 2026 کو تھانہ ایئرپورٹ میں درج کی گئی۔ یہ مقدمہ آر ڈی اے کے میٹروپولیٹن پلاننگ اینڈ ٹریفک انجینئرنگ (ایم پی اینڈ ٹی ای) ڈائریکٹوریٹ کے سپرنٹنڈنٹ اسکیم و انسپکٹر محمد طارق کی مدعیت میں درج ہوا۔ مقدمے کی بنیاد ایک تفصیلی انسپکشن پر رکھی گئی جو موضع چکیاں، برکت جنکشن میں واقع سائٹ پر کی گئی، جو تھانے سے تقریباً نو کلومیٹر مشرق میں واقع ہے۔

معائنے میں سامنے آنے والی بے ضابطگیاں

ذرائع کے مطابق قانونی کارروائی کا آغاز 8 جنوری 2026 کو دوپہر تقریباً 12 بجے کیے گئے سرکاری دورے کے بعد ہوا۔ انسپکشن ٹیم میں انسپکٹر کامران شہزاد بھی شامل تھے۔ دورے کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ فیصل ٹاؤن کی انتظامیہ منظور شدہ لے آؤٹ پلان میں درج لازمی انفراسٹرکچر کی فراہمی میں ناکام رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈویلپرز نے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر شروع ہی نہیں کی۔ بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے انتظامیہ غیر منظور شدہ علاقوں میں پلاٹس فروخت کرتی پائی گئی۔ ایف آئی آر میں ایک مخصوص مثال کے طور پر سیکٹر اے میں پلاٹ نمبر 10 کا ذکر کیا گیا ہے، جسے “نیو لالہ زار مال” کے نام سے بغیر قانونی اجازت اور منظوری کے مارکیٹ کیا جا رہا تھا۔

عوامی اعتماد کی خلاف ورزیاں

ذرائع کا کہنا ہے کہ انسپکشن میں عوام کو گمراہ کرنے کے منظم طریقہ کار کا انکشاف ہوا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق پارکنگ اور گرین بیلٹس کے لیے مختص اراضی کو غیر قانونی طور پر رہائشی یا کمرشل پلاٹس میں تبدیل کر کے فروخت کیا جا رہا تھا۔ مزید یہ کہ اسکیم کے کئی سیکٹرز میں بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں، جس کے باعث موجودہ رہائشیوں اور ممکنہ خریداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

آر ڈی اے کا الزام ہے کہ انتظامیہ نہ صرف پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز (ترمیمی) ایکٹ 2014 کی خلاف ورزی کر رہی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کو غیر موجود سہولیات کا جھانسہ دے کر اور ماسٹر پلان میں غیر قانونی تبدیلیاں کر کے دھوکہ دے رہی ہے۔

قانونی دفعات اور نامزد ملزمان

پولیس نے ایف آئی آر میں ہاؤسنگ اسکیم کے کئی اعلیٰ عہدیداروں اور نمائندوں کو نامزد کیا ہے، جن میں الٰم الدین ولد عبدالمجید، محمد سعید ولد طاہر پرویز، محمد رضوان (جنرل منیجر) اور محمد پرویز (کمپنی سیکرٹری) شامل ہیں۔

ملزمان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان (پی پی سی) کی دفعہ 420 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جو دھوکہ دہی اور بددیانتی سے جائیداد حاصل کرنے سے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب ڈویلپمنٹ آف سٹیز ایکٹ کی دفعہ 34-بی(1) بھی شامل کی گئی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا امکان

ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم فروری 2026 سے نمایاں اضافے کا امکان …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے