پاکستان میں عید سیزن سے قبل فرشی شلوار کے بعد اب فرشی شرٹس کا نیا ٹرینڈ متعارف

پاکستان میں فیشن کے رجحانات ہر سال عید کے موقع پر نمایاں طور پر تبدیل ہوتے ہیں اور اس سال ملبوسات کے نئے انداز کے طور پر فرشی شرٹس کا ٹرینڈ تیزی سے مقبول ہورہا ہے، جسے معروف ڈیزائنرز اور فیشن برانڈز نئے سیزن کی بڑی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
گزشتہ سال مختصر قمیص کے ساتھ فرشی شلوار کا انداز سب سے زیادہ مقبول رہا تھا اور ملک کے بڑے فیشن برانڈز، شوبز شخصیات اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز نے اس طرز کو بھرپور انداز میں متعارف کرایا تھا۔ یہ رجحان پاکستان سے نکل کر بھارت تک پہنچا جہاں متعدد بھارتی اداکاراؤں اور انفلوئنسرز نے بھی اسی طرز کے ملبوسات پہن کر اسے جنوبی ایشیا کے مشترکہ فیشن ٹرینڈ میں بدل دیا تھا۔ فیشن ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خاص طور پر انسٹاگرام اور ٹک ٹاک، اب فیشن ٹرینڈز کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
رواں سال ڈیزائنرز نے اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے فرشی شلوار کی جگہ فرشی شرٹس کا نیا انداز متعارف کرایا ہے۔ لمبی قمیصیں گزشتہ کئی برسوں سے فیشن کا حصہ رہی ہیں، تاہم اس بار ان کی لمبائی مزید بڑھا کر انہیں پاؤں تک لمبا کر دیا گیا ہے۔ اس انداز کو اب فرشی شرٹس کا نام دیا جا رہا ہے اور اسے عید کلیکشنز میں نمایاں جگہ دی جا رہی ہے۔
معروف فیشن ڈیزائنر کرن افضال نے اس رجحان کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال فرشی شلوار سب سے نمایاں ٹرینڈ تھا لیکن اس سال ڈیزائنرز فل لینتھ شرٹس پر کام کر رہے ہیں جو پاؤں تک لمبی ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین اس وقت لمبی شرٹس کو پلازو، سیدھی شلوار اور وائڈ ٹراؤزر کے ساتھ پہننے کو ترجیح دے رہی ہیں کیونکہ یہ انداز روایتی اور جدید فیشن کا امتزاج سمجھا جا رہا ہے۔
پاکستان کی فیشن انڈسٹری ہر سال عید اور شادی سیزن کے دوران اربوں روپے کا کاروبار کرتی ہے۔ مقامی ٹیکسٹائل اور گارمنٹس سیکٹر کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تیار ملبوسات کی فروخت میں عید سے قبل نمایاں اضافہ ہوتا ہے اور بڑے برانڈز اپنی سالانہ فروخت کا بڑا حصہ اسی سیزن میں حاصل کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق لان، کاٹن، سلک اور شیفون کے ملبوسات کی مانگ خاص طور پر رمضان اور عید کے دوران بڑھ جاتی ہے جس کے باعث ڈیزائنرز ہر سال نئے انداز متعارف کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔
تاہم اس سال ملبوسات کی قیمتوں میں اضافہ بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا ہے۔ ڈیزائنرز کا کہنا ہے کہ سیلز ٹیکس، درآمدی ڈیوٹی اور پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث کپڑوں کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں جس کا اثر خریداروں اور فیشن انڈسٹری دونوں پر پڑ رہا ہے۔ ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ تاجروں کے مطابق کپاس، دھاگے اور فیبرک کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ریڈی میڈ ملبوسات مہنگے ہونا ناگزیر ہوگیا ہے۔
فیشن ماہرین کے مطابق اگرچہ فرشی شرٹس کا رجحان ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن بڑے برانڈز اور ڈیزائنرز کی جانب سے اسے عید کلیکشنز کا حصہ بنانے کے بعد امکان ہے کہ یہ انداز ملک بھر میں تیزی سے مقبول ہوجائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فیشن کے رجحانات تیزی سے تبدیل ہوتے ہیں اور عید سیزن ہمیشہ نئے ٹرینڈ متعارف کرانے کا سب سے اہم وقت سمجھا جاتا ہے، اس لیے توقع ہے کہ رواں سال فرشی شرٹس خواتین کے ملبوسات میں نمایاں مقام حاصل کرلیں گی۔
UrduLead UrduLead