منگل , جون 16 2026

3.68 کھرب روپے کے ریکارڈ اضافی اخراجات

حکومتی مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری کے دعوؤں پر نئے سوالات

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پارلیمنٹ سے 3 کھرب 68 ارب 40 کروڑ روپے کے ریکارڈ اضافی اور ضمنی اخراجات کی بعد از خرچ منظوری طلب کر لی ہے، جس نے حکومتی مالی نظم و ضبط اور کفایت شعاری کے دعوؤں پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے رواں اور گزشتہ مالی سال کے دوران مختلف شعبوں میں منظور شدہ بجٹ سے کہیں زیادہ اخراجات کیے، جنہیں اب آئینی تقاضوں کے تحت پارلیمنٹ سے قانونی منظوری دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ رقم گزشتہ سال پارلیمنٹ سے منظور کرائے گئے 895 ارب روپے کے ضمنی اخراجات کے مقابلے میں چار گنا سے بھی زیادہ ہے۔

وزارت خزانہ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر 3.2 کھرب روپے کے اخراجات مالی سال 2024-25 اور تقریباً 485 ارب روپے مالی سال 2025-26 کے لیے ریگولرائز کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے بڑا اضافی خرچ قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کی مد میں ہوا، جہاں 2024-25 کے دوران 2.6 کھرب روپے کے غیر منظور شدہ اضافی اخراجات کیے گئے۔ اس کے علاوہ پاور سیکٹر کے لیے 430 ارب روپے، گرانٹس اور سبسڈیز کے لیے 38 ارب روپے، دفاعی ڈویژن کے لیے 23 ارب روپے اور سول ورکس کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 22 ارب روپے اضافی خرچ کیے گئے۔

رواں مالی سال 2025-26 میں بھی حکومت نے مختلف شعبوں کے لیے 485 ارب روپے کے اضافی فنڈز استعمال کیے۔ ان میں گرانٹس اور سبسڈیز کے لیے 127.5 ارب روپے، پاور سیکٹر کے لیے 112 ارب روپے، وفاقی تعلیم کے شعبے کے لیے 57 ارب روپے، دفاعی اخراجات کے لیے 34 ارب روپے اور صحت کے شعبے کے لیے 30 ارب روپے شامل ہیں۔

دستاویزات کے مطابق وزارت اطلاعات کو بھی 14 ارب روپے کے اضافی فنڈز فراہم کیے گئے، جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو 10 ارب روپے، ریلوے کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6.6 ارب روپے اور سول ورکس کے لیے 7.9 ارب روپے اضافی دیے گئے۔

حکومت نے وزیر اعظم کے کفایت شعاری فنڈ کے لیے بھی 127 ارب روپے سے زائد کی اضافی گرانٹ استعمال کی، جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) کو ٹیرف ایڈجسٹمنٹ اور نیٹ میٹرنگ کی مد میں تقریباً 11 ارب روپے اور انگریزی نیوز چینل کے لیے 2.8 ارب روپے فراہم کیے گئے۔

اسی طرح پاکستان ورچوئل اثاثہ جات اتھارٹی کے لیے 80 کروڑ روپے، پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی اور آسان خدمت مراکز کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے گئے۔ وزیراعظم رمضان پیکج کے لیے 22 ارب روپے اور ارکان قومی اسمبلی کی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 7 ارب روپے کی اضافی گرانٹس بھی جاری کی گئیں۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ یہ اخراجات ایسے تھے جنہیں نہ تو موجودہ بجٹ سے پورا کیا جا سکتا تھا اور نہ ہی مؤخر کیا جا سکتا تھا، اس لیے ضمنی گرانٹس کے ذریعے فنڈز فراہم کیے گئے۔

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی مالیت کے اضافی اخراجات بجٹ سازی کے عمل، اخراجات کی منصوبہ بندی اور مالی نظم و نسق کے نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ سے بعد از خرچ منظوری لینے کا عمل آئینی تقاضا تو ہے، لیکن اس سے حکومتی مالیاتی تخمینوں کی درستگی اور شفافیت پر بحث مزید تیز ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بھی متوقع ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں ان ریکارڈ ضمنی اخراجات پر حکومت سے وضاحت طلب کریں گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب حکومت عوام سے کفایت شعاری اور مالی نظم و ضبط کی اپیل کرتی رہی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایران، سعودی عرب، مصر کےمیچ برابر

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں گروپ مرحلے کے دلچسپ مقابلوں میں ایران، سعودی عرب اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے