یوریا پلانٹس کو گیس فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس میں مختلف ترقیاتی منصوبوں، پاسپورٹ سروسز اور سیکیورٹی امور کے لیے 9.5 ارب روپے سے زائد کی تکنیکی ضمنی گرانٹس (TSGs) کی منظوری دے دی گئی، جبکہ دو بڑے یوریا ساز کارخانوں کو گیس فراہمی جاری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
فنانس ڈویژن میں منعقدہ اجلاس میں وزارت داخلہ و انسدادِ منشیات کی جانب سے پیش کردہ سمری منظور کرتے ہوئے نادرا ٹی ڈی پی-ای آر پی/خیبرپختونخوا سٹیزن سینٹرڈ سروس ڈیلیوری پراجیکٹ کے لیے 2.19 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی گئی۔ یہ فنڈنگ عالمی بینک کے تعاون سے جاری منصوبے کی سرگرمیوں کے تسلسل کو یقینی بنائے گی۔
ای سی سی نے ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے حق میں 5 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ بھی منظور کی تاکہ پاسپورٹ بک لیٹس کی چھپائی سے متعلق واجبات کی ادائیگی کی جا سکے اور ملک بھر میں پاسپورٹ خدمات کا بلا تعطل تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
اجلاس میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) 2025-26 کے تحت وزارت داخلہ کے تین ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2.12 ارب روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی بھی منظوری دی گئی۔ ان منصوبوں میں اسلام آباد کے سیکٹر H-16 میں ماڈل جیل کی تعمیر، نیشنل پولیس ہسپتال منصوبہ اور فارن نیشنل سکیورٹی سیل ڈیش بورڈ و متعلقہ سہولیات شامل ہیں۔
کمیٹی نے انسدادِ منشیات فورس (ANF) کے ہیلی کاپٹروں کی مرمت اور آپریشنل ضروریات پوری کرنے کے لیے 240.5 ملین روپے کی گرانٹ کی بھی منظوری دی۔
زراعت کے شعبے کے لیے اہم فیصلے میں ای سی سی نے وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کی سمری منظور کرتے ہوئے ایس این جی پی ایل سے گیس حاصل کرنے والے یوریا کارخانوں، فاطمہ فرٹیلائزر اور ایگری ٹیک، کو 30 جون 2026 تک گیس فراہمی جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
حکام کے مطابق اس فیصلے سے ملک میں یوریا کھاد کی دستیابی برقرار رکھنے، زرعی شعبے کی ضروریات پوری کرنے اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں کے استحکام میں مدد ملے گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کھاد سازی کے کارخانوں کو مسلسل گیس فراہمی ملکی زرعی پیداوار اور غذائی تحفظ کے لیے انتہائی اہم ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ، وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر منصوبہ بندی سمیت مختلف وزارتوں، ڈویژنوں اور ریگولیٹری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
ای سی سی کے فیصلوں کو حکومت کی جانب سے عوامی خدمات کی بہتری، داخلی سلامتی کے نظام کو مضبوط بنانے اور زرعی شعبے کو درکار بنیادی وسائل کی فراہمی یقینی بنانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead