اتوار , اگست 2 2026

DeepSeek: کوڈنگ کی قیمت میں 99 فیصد کمی

امریکا اور چین میں قیمتوں کی جنگ تیز

چینی مصنوعی ذہانت (اے آئی) لیب ڈیپ سیک نے طاقتور نیا کوڈنگ ماڈل V4 Flash متعارف کرا دیا ہے، جس نے اے آئی ماڈلز کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کے رجحان کو مزید نمایاں کردیا ہے۔

نئے ماڈل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ پیچیدہ کوڈنگ اور خودکار سافٹ ویئر ٹاسکس میں معروف امریکی اے آئی ماڈل Claude Opus 4.8 کے قریب کارکردگی دکھاتا ہے، تاہم اس کی لاگت انتہائی کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیپ سیک تقریباً 28 سینٹ میں اتنا آؤٹ پٹ فراہم کر رہا ہے جس کے لیے Claude Opus 4.8 پر تقریباً 25 ڈالر خرچ ہوتے ہیں، یعنی قیمت میں تقریباً 99 فیصد فرق ہے۔

اے آئی ماڈلز کی کارکردگی جانچنے والے Arena.ai کے فرنٹ اینڈ کوڈنگ لیڈر بورڈ پر V4 Flash نے Opus 4.8 سے بہتر آغاز کیا، جبکہ اپنی کیٹیگری میں قیمت کے مقابلے میں کارکردگی کے لحاظ سے بھی نمایاں مقام حاصل کیا۔

ڈیپ سیک وہی چینی اسٹارٹ اپ ہے جس نے گزشتہ سال جنوری میں عالمی ٹیک مارکیٹ میں ہلچل مچا دی تھی، جب اس نے نسبتاً کم وسائل کے ساتھ عالمی معیار کا اے آئی ماڈل تیار کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا تھا۔

اے آئی ماڈلز میں قیمتوں کی جنگ

ڈیپ سیک کے نئے ماڈل کے اجرا کے ساتھ ہی امریکا اور چین کی اے آئی کمپنیوں کے درمیان قیمتوں کی مسابقت مزید تیز ہوگئی ہے۔

چینی ماڈلز، جن میں Kimi K3 بھی شامل ہے، کے بڑھتے ہوئے مقابلے کے دوران امریکی ٹیک کمپنیوں نے بھی کم قیمت اور تیز رفتار اے آئی ماڈلز متعارف کرانا شروع کردیئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی نے اپنے تیز رفتار اور کم لاگت والے ماڈل کی قیمت میں 80 فیصد کمی کی، جبکہ گوگل نے بھی کارکردگی اور کم لاگت پر توجہ مرکوز کرنے والے تین نئے Gemini فلیش ماڈلز پیش کیے۔

دوسری جانب ایلون مسک کی کمپنی نے بھی کوڈنگ، تحقیق اور خودکار کاموں کے لیے نیا طاقتور ماڈل متعارف کرایا ہے، جبکہ میٹا نے ڈویلپرز کے لیے جارحانہ قیمتوں کے ساتھ ایک بند سورس ماڈل پیش کیا ہے۔

اس کے برعکس اینتھروپک اپنے اعلیٰ معیار کے Claude ماڈلز کے لیے پریمیم قیمت برقرار رکھتے ہوئے حفاظت، درستگی اور کارکردگی کو اپنی ترجیح قرار دے رہی ہے۔

اے آئی بھی ایک کموڈیٹی بننے کی جانب؟

ماہرین کے مطابق جیسے جیسے مختلف اے آئی ماڈلز کی کارکردگی میں فرق کم ہورہا ہے، صارفین کے لیے یہ فیصلہ زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے کہ کون سا ماڈل بہتر قیمت، رفتار اور مطلوبہ نتائج فراہم کرتا ہے۔

اس صورتحال کا موازنہ بجلی اور پٹرول جیسی اشیا سے کیا جا رہا ہے، جہاں صارف عموماً یہ نہیں دیکھتا کہ بجلی کس پاور پلانٹ سے آئی یا ایندھن کس ریفائنری میں تیار ہوا، بلکہ وہ قیمت اور معیار کو ترجیح دیتا ہے۔

اے آئی کے شعبے میں بھی یہی رجحان تیزی سے ابھر رہا ہے۔ متعدد ایپلی کیشنز اب کسی ایک اے آئی فراہم کنندہ پر مکمل انحصار نہیں کرتیں، جس سے صارفین کو مختلف ماڈلز کے درمیان قیمت اور کارکردگی کی بنیاد پر انتخاب کی زیادہ آزادی مل رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق مستقبل میں ’انٹیلیجنٹ اے آئی راؤٹرز‘ کا استعمال بڑھ سکتا ہے، جو ہر کام کے لیے کارکردگی، رفتار اور قیمت کو دیکھتے ہوئے خودکار طور پر موزوں ترین اے آئی ماڈل کا انتخاب کریں گے۔

بڑی اے آئی کمپنیوں کے لیے نیا چیلنج

اے آئی ماڈلز کی قیمتوں میں مسلسل کمی ان کمپنیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے جو جدید ترین ماڈلز تیار کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کر رہی ہیں۔

اگر ایک کمپنی دسیوں ارب ڈالر خرچ کرکے معمولی طور پر بہتر ماڈل تیار کرتی ہے لیکن اسے صرف عارضی تکنیکی برتری حاصل ہوتی ہے تو اس سرمایہ کاری سے طویل مدتی قیمت مقرر کرنے کی طاقت حاصل کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

تاہم دوسری جانب کم قیمت اے آئی کے نتیجے میں استعمال میں غیر معمولی اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ بڑی اے آئی کمپنیاں اس بات پر انحصار کر رہی ہیں کہ کم قیمت کے باعث کاروباری ادارے اور صارفین ان کے ماڈلز کا استعمال کئی گنا بڑھا دیں گے، جس سے زیادہ حجم کم مارجن کی تلافی کرسکتا ہے۔

یوں امریکا اور چین کے درمیان مقابلہ صرف سب سے طاقتور اے آئی ماڈل بنانے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب کم قیمت پر زیادہ ذہانت فراہم کرنے کی دوڑ بھی تیز ہوگئی ہے۔ اصل چیلنج یہ ہوگا کہ جب مصنوعی ذہانت وافر اور سستی ہوجائے تو اسے منافع بخش کاروبار میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

سندھ بھر میں گرمیوں کی تعطیلات ختم

اسکول اور کالجز دوبارہ کھل گئے کراچی سمیت سندھ بھر میں دو ماہ کی گرمیوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے