بدھ , جون 17 2026

امریکا کی xAI کے ماحولیاتی مقدمے میں مداخلت

امریکی حکومت نے ایلون مسک کی مصنوعی ذہانت کمپنی xAI کے حق میں ایک اہم ماحولیاتی تنازع میں مداخلت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ٹینیسی میں قائم 20 ارب ڈالر مالیت کے ڈیٹا سینٹر کے لیے بجلی کی فراہمی روکنے کی کوششیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف نے عدالت میں جمع کرائی گئی درخواست میں ایک ایسے مقدمے کو خارج کرنے کی استدعا کی ہے جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ xAI نے میمفس میں واقع اپنے ’’کولوسس 2‘‘ ڈیٹا سینٹر کو بجلی فراہم کرنے کے لیے درجنوں قدرتی گیس ٹربائنز ضروری ماحولیاتی اجازت ناموں کے بغیر نصب اور استعمال کیں۔

یہ مقدمہ امریکا کی معروف شہری حقوق تنظیم نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل (NAACP) نے اپریل میں دائر کیا تھا۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ ان ٹربائنز سے خارج ہونے والی آلودگی علاقے کے لاکھوں مکینوں، خصوصاً سیاہ فام آبادی، کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور اس سے دمہ، سانس کی بیماریوں، دل کے امراض اور بعض اقسام کے کینسر کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔

محکمہ انصاف نے اپنے مؤقف میں کہا ہے کہ مقدمہ دراصل ایسی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کی بجلی کی فراہمی روکنے کی کوشش ہے جو امریکی فوجی آپریشنز اور دفاعی صلاحیتوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ عدالت میں جمع کرائے گئے دستاویزات کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ قومی، معاشی اور توانائی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس مقدمے کو آگے نہیں بڑھایا جانا چاہیے۔

محکمہ انصاف کے ماحولیات اور قدرتی وسائل ڈویژن کے سربراہ ایڈم گسٹافسن نے کہا کہ حکومت ایسے اقدامات کے سامنے خاموش نہیں بیٹھ سکتی جو ماحولیاتی قوانین کو قومی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کریں۔

دوسری جانب ماحولیاتی تنظیم ارتھ جسٹس، جو اس مقدمے میں NAACP کی نمائندگی کر رہی ہے، نے امریکی حکومت کی مداخلت کو ’’اختیارات پر قبضے کی کوشش‘‘ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق حکومت ایلون مسک کی کمپنی کو ماحولیاتی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر جوابدہی سے بچانا چاہتی ہے۔

قانونی ماہرین نے بھی اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی ماحولیاتی قانون کی پروفیسر این کارلسن کے مطابق محکمہ انصاف کا مؤقف ماحولیاتی قوانین کے نفاذ کو محدود کرنے کی ایک غیر معمولی کوشش ہے اور اگر اسے قبول کر لیا گیا تو شہری تنظیموں کے لیے آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی xAI کا مصنوعی ذہانت ماڈل ’’گروک‘‘ امریکی محکمہ دفاع کے مختلف منصوبوں میں استعمال ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار کی عدالت میں جمع کرائی گئی گواہی کے مطابق گروک نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی 96 گھنٹوں میں دو ہزار اہداف کے خلاف کارروائیوں میں معاونت فراہم کی تھی۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کی فراہمی یا کمپیوٹنگ صلاحیتوں میں رکاوٹ پیدا ہوئی تو پینٹاگون کے متعدد جدید اے آئی نظام شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اس ڈیٹا سینٹر اور اس سے منسلک توانائی منصوبے کو قومی سلامتی کے تناظر میں اہم قرار دے رہی ہے۔

یہ مقدمہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال، توانائی کی بڑھتی طلب اور ماحولیاتی تحفظ کے تقاضوں کے درمیان توازن قائم کرنے پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

9.5 ارب روپے سے زائد گرانٹس کی منظوری

یوریا پلانٹس کو گیس فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے