امریکی محکمہ انصاف نے اظہارِ رائے کی آزادی کا حوالہ دیتے ہوئے فرانسیسی تحقیقات میں مدد دینے سے انکار کر دیا

امریکی محکمہ انصاف نے X کے خلاف فرانس میں جاری فوجداری تحقیقات میں تعاون سے انکار کر دیا ہے، جس سے سوشل میڈیا ریگولیشن پر امریکہ اور یورپ کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق محکمہ انصاف کے دفتر برائے بین الاقوامی امور نے فرانسیسی حکام کو ایک خط میں کہا کہ وہ اس تحقیقات میں مدد فراہم نہیں کرے گا کیونکہ یہ اقدام امریکی آئین کی پہلی ترمیم کے تحت حاصل آزادی اظہار کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے۔ امریکی حکام نے اس کارروائی کو خیالات کے آزاد اظہار کے پلیٹ فارم کو فوجداری قانون کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش قرار دیا۔
یہ تحقیقات Elon Musk کی ملکیت میں موجود پلیٹ فارم ایکس سے متعلق ہیں، جن میں الگورتھمک جانبداری، غیر ملکی مداخلت، ڈیٹا کے غلط استعمال، اور مواد کی نگرانی سے متعلق الزامات شامل ہیں۔ فرانسیسی حکام نے اس سال تحقیقات کو تیز کیا، جس میں فروری میں پیرس میں کمپنی کے دفاتر پر چھاپہ بھی شامل تھا۔
تاہم فرانسیسی پراسیکیوٹرز نے امریکی موقف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس مخصوص خط کے بارے میں علم نہیں اور انہوں نے عدلیہ کی آزادی پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیقات ملکی قوانین کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو جوابدہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
یہ معاملہ امریکہ اور یورپ کے درمیان سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی پر بڑھتے اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ جہاں آزادی اظہار کو ترجیح دیتا ہے، وہیں یورپی یونین نے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ جیسے قوانین کے ذریعے سخت نگرانی کا نظام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت پلیٹ فارمز کو نقصان دہ مواد کے خلاف اقدامات کرنا ہوتے ہیں۔
ایکس نے بھی فرانسیسی تحقیقات کو سیاسی قرار دیتے ہوئے اپنے الگورتھمز اور صارفین کے ڈیٹا تک رسائی دینے سے انکار کیا ہے۔ کمپنی کا مؤقف ہے کہ ایسے مطالبات صارفین کی پرائیویسی اور آزادی اظہار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
2022 میں ایلون مسک کی جانب سے خریداری کے بعد پلیٹ فارم، جو پہلے ٹوئٹر کے نام سے جانا جاتا تھا، عالمی سطح پر مواد کی پالیسیوں کے حوالے سے تنقید کا سامنا کر رہا ہے۔ کمپنی نے ٹرسٹ اینڈ سیفٹی ٹیموں میں کمی کی اور اظہار رائے کے لیے زیادہ کھلا ماحول اپنایا، جس پر ریگولیٹرز نے تحفظات ظاہر کیے۔
ماہرین کے مطابق محکمہ انصاف کا یہ فیصلہ سرحد پار ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کو پیچیدہ بنا سکتا ہے، کیونکہ مختلف ممالک کے قوانین اور آئینی حدود ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایسے معاملات میں باہمی قانونی معاونت کے معاہدے اہم کردار ادا کرتے ہیں، تاہم قومی قوانین اکثر تعاون کی حد مقرر کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کو آئندہ دنوں میں فرانسیسی سائبر کرائم حکام کے سامنے پیش ہونا پڑ سکتا ہے، جس سے اس معاملے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ یہ کیس اس بات کا تعین کر سکتا ہے کہ حکومتیں ٹیکنالوجی کمپنیوں سے ڈیٹا اور الگورتھمز تک کس حد تک رسائی حاصل کر سکتی ہیں۔
یہ تنازع ڈیجیٹل خودمختاری اور آن لائن پلیٹ فارمز کے ضابطہ کار پر جاری عالمی بحث کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ X اس بحث کے مرکز میں ہے، جہاں آزادی اظہار، شفافیت اور جوابدہی کے درمیان توازن قائم کرنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead