وِیساکھی 2026 تقریبات کے بعد ہزاروں سکھ یاتری وطن لوٹ گئے، پاکستان کی مہمان نوازی اور سکیورٹی انتظامات کو سراہا

ہزاروں بھارتی سکھ یاتری اتوار کے روز وِیساکھی 2026 کی تقریبات مکمل کرنے کے بعد پاکستان سے واپس روانہ ہوگئے، جہاں انہوں نے نو روزہ مذہبی سفر کے دوران بہترین انتظامات اور مہمان نوازی کو سراہا۔
یاتری واہگہ بارڈر کے ذریعے وطن لوٹے، جہاں انہوں نے خالصہ کے قیام کی 327ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کی۔ خالصہ کی بنیاد 1699 میں Guru Gobind Singh نے رکھی تھی، جو سکھ تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ہے۔ حکام کے مطابق اس سال 2,238 سے 2,800 کے درمیان یاتریوں نے 10 سے 19 اپریل تک جاری رہنے والی تقریبات میں شرکت کی۔
مرکزی تقریب 14 اپریل کو Gurdwara Panja Sahib میں منعقد ہوئی، جہاں بڑی تعداد میں سکھ عقیدت مند جمع ہوئے۔ یاتریوں نے Gurdwara Nankana Sahib کا بھی دورہ کیا، جو Guru Nanak کی جائے پیدائش ہے، جبکہ Gurdwara Kartarpur Sahib بھی ان کے سفر کا اہم حصہ رہا، جہاں کرتارپور راہداری کے ذریعے بھارتی سکھوں کو ویزا فری رسائی حاصل ہے۔
تقریبات کے دوران نگر کیرتن جلوس، اکھنڈ پاٹھ کی تلاوت، اور لنگر کا اہتمام کیا گیا، جو سکھ مذہب میں برابری اور خدمت کے اصولوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ Lahore اور اس کے گرد و نواح میں ثقافتی اور مذہبی تقریبات نے جشن کا ماحول مزید نمایاں کیا۔
صوبہ پنجاب کی حکومت نے وزیر اعلیٰ Maryam Nawaz Sharif کی ہدایات پر انتظامات کو یقینی بنایا، جبکہ Evacuee Trust Property Board نے سہولیات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ حکام کے مطابق رہائش، ٹرانسپورٹ اور سکیورٹی کے انتظامات کو اس سال مزید بہتر بنایا گیا تھا۔
یاتریوں نے واپسی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ انہیں پاکستان میں عزت اور احترام ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی مقامات تک رسائی آسان تھی اور انتظامات تسلی بخش تھے۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی رپورٹس میں یاتریوں کو پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
پاکستان ہر سال دوطرفہ مذہبی سیاحت کے فریم ورک کے تحت ہزاروں سکھ یاتریوں کی میزبانی کرتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں سکھ مذہب کے 20 سے زائد اہم تاریخی مقامات موجود ہیں، جن کی بحالی اور دیکھ بھال پر حالیہ برسوں میں خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ 2019 میں کرتارپور راہداری کے افتتاح کے بعد سے لاکھوں سکھ یاتری اس سہولت سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جو خطے میں کشیدگی کے باوجود جاری ہے۔
سیاحتی حکام کے مطابق مذہبی سیاحت مقامی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے، خصوصاً پنجاب میں جہاں ان تقریبات سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے مطابق بہتر سکیورٹی اور حکومتی پالیسیوں کے باعث مذہبی سیاحت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وِیساکھی جیسے مواقع پاکستان اور بھارت کے درمیان عوامی رابطوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جہاں سفارتی تعلقات محدود رہتے ہیں۔ ایسے مذہبی اور ثقافتی تبادلے نرم سفارتکاری کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
وِیساکھی 2026 کی کامیاب میزبانی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان سکھ مذہبی ورثے کے تحفظ اور فروغ کے لیے پرعزم ہے، جبکہ Gurdwara Panja Sahib اور Gurdwara Kartarpur Sahib جیسے مقدس مقامات عالمی سکھ برادری کے لیے اہم حیثیت رکھتے ہیں۔
UrduLead UrduLead