اتوار , اپریل 19 2026

UAE کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی: SBP

پاکستان نے 2 ارب ڈالر کی ادائیگی مکمل کر کے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھا

پاکستان نے متحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کی ادائیگی کر دی، جو بیرونی ذمہ داریوں کی بروقت تکمیل کا حصہ ہے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اس کی تصدیق کی۔

مرکزی بینک کے ترجمان کے مطابق یہ رقم سیف ڈپازٹ کے طور پر پاکستان کے اکاؤنٹ میں موجود تھی، جسے طے شدہ معاہدے کے تحت واپس کیا گیا۔ یہ ادائیگی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں متعدد بیرونی واجبات وقت پر ادا کیے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی ادائیگیوں کو بروقت مکمل کیا اور ساتھ ہی مالی آمدن کے باعث زرمبادلہ ذخائر پر دباؤ محدود رکھا۔ حالیہ عرصے میں بڑی ادائیگیوں کے باوجود ذخائر میں نمایاں کمی نہیں آئی۔

گزشتہ ہفتے پاکستان نے تقریباً 1.5 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی کی، جبکہ 2 ارب ڈالر کے میچور ڈپازٹس بھی واپس کیے گئے۔ اسی دوران 50 کروڑ ڈالر کے نئے یورو بانڈز جاری کیے گئے، جس سے کچھ مالی خلا پورا کیا گیا۔

مزید برآں پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے 2 ارب ڈالر کا ڈپازٹ موصول ہوا، جس نے بیرونی کھاتے کو سہارا دیا۔ ان رقوم کی آمد سے زرمبادلہ ذخائر کو استحکام ملا، جو قرضوں کی ادائیگی اور درآمدی اخراجات کے باعث دباؤ میں رہے ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 7 سے 9 ارب ڈالر کے درمیان رہے، جو بمشکل دو ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کم از کم تین ماہ کی درآمدی کوریج کو محفوظ سطح قرار دیتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کو ادائیگی پاکستان کی جانب سے دوطرفہ شراکت داروں کے ساتھ مالی ساکھ برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور یو اے ای، پاکستان کے ادائیگیوں کے توازن کو سہارا دینے میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق 2018 کے بعد سے سعودی عرب اور یو اے ای پاکستان کو 10 ارب ڈالر سے زائد مالی معاونت فراہم کر چکے ہیں۔ یہ معاونت زیادہ تر ڈپازٹس، مؤخر ادائیگیوں اور تیل کی سہولتوں کی شکل میں دی گئی۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت معاشی اصلاحات پر عمل پیرا ہے۔ فنڈ کی حالیہ جائزہ رپورٹ میں مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ پر زور دیا گیا ہے تاکہ بیرونی استحکام حاصل کیا جا سکے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2025 کے پہلے نصف میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 1 ارب ڈالر رہا، جو ایک سال قبل 3 ارب ڈالر سے زائد تھا۔ ماہرین اس بہتری کو درآمدات میں کمی، شرح مبادلہ میں ایڈجسٹمنٹ اور ترسیلات زر میں اضافے سے جوڑتے ہیں۔

بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر بھی معیشت کے لیے اہم سہارا بنی ہوئی ہیں، جو مالی سال 2024 میں 27 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔ ان رقوم نے بیرونی ادائیگیوں اور تجارتی خسارے کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی۔

تاہم پاکستان کو آئندہ برسوں میں سالانہ 20 ارب ڈالر سے زائد بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا سامنا ہے، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔ ماہرین کے مطابق ذخائر میں بہتری کے لیے مسلسل مالی آمدن، برآمدات میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری ضروری ہے۔

حکومت سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی کے لیے مالیاتی اور ساختی اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے۔ توانائی نرخوں میں ردوبدل اور ٹیکس نظام میں بہتری جیسے اقدامات اسی سلسلے کا حصہ ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یو اے ای کو بروقت ادائیگی پاکستان کے لیے مثبت اشارہ ہے، جو عالمی مالیاتی اداروں اور شراکت داروں کے اعتماد کو مضبوط بناتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں بیرونی دباؤ برقرار رہنے کے باوجود مالی نظم و ضبط کلیدی اہمیت رکھے گا، اور متحدہ عرب امارات کو ادائیگی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

انطالیہ اجلاس: چار ملکی رابطہ تیز

ترکی، سعودی عرب، پاکستان اور مصر نے انطالیہ میں علاقائی بحرانوں پر مشاورت تیز کرنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے