
وزیر خزانہ نے کہا زرمبادلہ ذخائر مستحکم رہیں گے اور آئی ایم ایف اہداف پورے کیے جائیں گے جبکہ پانڈا بانڈز کے اجرا کی تیاری دوبارہ شروع کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb نے کہا ہے کہ حکومت نے یواے ای اور یورو بانڈز کی ادائیگی کے لیے مکمل انتظامات کر لیے ہیں اور زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم رکھتے ہوئے International Monetary Fund کے طے شدہ اہداف حاصل کیے جائیں گے۔
میڈیا سے غیر رسمی گفتگو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اپنی بیرونی ادائیگیوں سے متعلق تمام یقین دہانیاں بروقت پوری کرے گا۔ انہوں نے بتایا کہ کمرشل فنانسنگ اور بین الاقوامی بانڈز کے اجرا کے لیے تیاریاں جاری ہیں جبکہ بینکوں کے کنسورشیم کے ساتھ بھی بات چیت ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اپریل کے اختتام سے پانڈا بانڈز کے اجرا کی تیاری دوبارہ شروع کرے گی، جو چین کی مقامی مارکیٹ میں یوآن میں جاری کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کے مساوی پانڈا بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم پہلی مرتبہ اس مارکیٹ میں داخل ہونے کے باعث عمل میں وقت لگ رہا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشی پالیسیوں میں احتیاط اور توازن ضروری ہے۔
پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اصلاحاتی مرحلے سے گزر رہا ہے جس میں مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کلیدی اہداف ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق حالیہ مہینوں میں ذخائر میں بہتری آئی ہے جو درآمدی دباؤ کو سنبھالنے میں مدد دے رہی ہے۔
گزشتہ برس پاکستان نے یورو بانڈز اور دیگر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے دوست ممالک اور کثیرالجہتی اداروں کی مدد حاصل کی تھی۔ ماہرین کے مطابق بروقت ادائیگیاں عالمی مالیاتی منڈیوں میں پاکستان کی ساکھ بہتر بنانے کے لیے اہم ہیں۔
پانڈا بانڈز کے اجرا کو پاکستان کے لیے ایک نئی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے چین کی سرمایہ مارکیٹ تک رسائی حاصل ہوگی۔ ایشیائی ترقیاتی بینک اور دیگر ادارے بھی ابھرتی معیشتوں کو متبادل فنانسنگ ذرائع اختیار کرنے کا مشورہ دیتے رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ پالیسیوں نے معیشت کو درست سمت میں ڈالنے میں مدد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اہم معاشی فیصلے کیے جائیں گے اور نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاری بھی جاری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی توجہ مالیاتی استحکام برقرار رکھنے، بیرونی ادائیگیوں کو یقینی بنانے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے پر مرکوز ہے، جبکہ International Monetary Fund پروگرام کے تحت اہداف کی تکمیل کو یقینی بنایا جائے گا۔
UrduLead UrduLead