پاکستان نے ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کو خطرناک قرار دے کر سعودی عرب کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا

اسلام آباد میں منگل کو پاکستان نے ایران کی جانب سے سعودی عرب کی اہم توانائی تنصیبات پر کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت مذمت کی اور اسے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔
Ministry of Foreign Affairs نے اپنے بیان میں کہا کہ حملے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع جوبیل کی صنعتی اور پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنا کر کیے گئے۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام سعودی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان ان حملوں پر گہری تشویش رکھتا ہے کیونکہ ایسے اقدامات پہلے سے کشیدہ خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ہر اس اقدام کی مذمت کرتا ہے جو شہریوں اور اہم انفراسٹرکچر کو خطرے میں ڈالے۔
پاکستان نے Saudi Arabia کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ حکام نے حملوں کے نتیجے میں ممکنہ جانی نقصان اور توانائی کے ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
وزیر اعظم Shehbaz Sharif نے سعودی ولی عہد Mohammed bin Salman سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ انہوں نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی قیادت کے صبر و تحمل کو سراہا اور پاکستان کی مکمل یکجہتی کا یقین دلایا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان مشکل وقت میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی دفاعی اور تزویراتی تعلقات مزید مضبوط رہیں گے۔
ایک سینئر سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ اگر علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا تو پاکستان اپنے باہمی دفاعی انتظامات کے تحت سعودی عرب کے ساتھ تعاون پر غور کرے گا۔ تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب Iran اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی پہلے ہی بلند سطح پر ہے۔ ماہرین کے مطابق سعودی عرب کے مشرقی صنعتی علاقے عالمی توانائی نظام میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق سعودی عرب دنیا کی تقریباً 10 فیصد تیل سپلائی فراہم کرتا ہے۔ جوبیل جیسے صنعتی مراکز تیل کی ریفائننگ اور پیٹروکیمیکل پیداوار کے لیے نہایت اہم سمجھے جاتے ہیں۔
2019 میں ابقیق اور خریص تنصیبات پر حملوں کے بعد عالمی تیل سپلائی میں تقریباً 5 فیصد کمی آئی تھی، جس سے توانائی کی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس نوعیت کے حملے عالمی قیمتوں کو دوبارہ غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تاریخی تعلقات موجود ہیں جن میں دفاعی تعاون، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کی فراہمی شامل ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق سعودی عرب میں کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر پاکستان کی معیشت کے لیے اہم ذریعہ ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی ایران کے ساتھ طویل سرحد بھی ہے اور اسلام آباد دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھی علاقائی تنازعات کے حل کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دیتا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات اور اعتماد سازی اقدامات کی حمایت کی ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان کی ترجیح خطے میں امن اور استحکام ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ توانائی تنصیبات پر حملے نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ اس صورتحال میں بڑی طاقتیں اور علاقائی ممالک کشیدگی کم کرنے کی کوششیں تیز کر سکتے ہیں۔
پاکستان نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ فوری جنگ بندی اور مذاکرات ہی خطے کو مزید بحران سے بچا سکتے ہیں۔
حکومت نے واضح کیا کہ اہم توانائی ڈھانچے پر حملے ناقابل قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ پاکستان نے کہا کہ وہ عالمی شراکت داروں کے ساتھ مل کر خطے میں امن کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا جبکہ Saudi Arabia کے ساتھ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط کرے گا۔
UrduLead UrduLead