محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں وقفے وقفے سے بارش اور چند علاقوں میں موسلادھار بارش و ژالہ باری کی پیشگوئی کردی

پاکستان میں منگل کے روز مختلف علاقوں میں بارش کا سلسلہ جاری رہا جبکہ Pakistan Meteorological Department نے کئی مقامات پر تیز اور موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی ہے، جو ایک فعال مغربی ہواؤں کے سسٹم کے باعث ہو رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد میں دن بھر وقفے وقفے سے بارش متوقع ہے جبکہ بعض مقامات پر تیز بارش بھی ہوسکتی ہے۔ بالائی پنجاب کے علاقوں مری، گلیات، راولپنڈی، اٹک، چکوال اور جہلم میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، جو اس سسٹم کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔
مرکزی پنجاب کے اضلاع سرگودھا، میانوالی، فیصل آباد، جھنگ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی بادل برسنے کا امکان ہے۔ اسی طرح جنوبی پنجاب کے علاقوں ملتان، بہاولپور، ڈی جی خان اور راجن پور میں بھی بارش متوقع ہے، جس سے درجہ حرارت میں کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں موسم بہار کے دوران مغربی ہواؤں کے سلسلے زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جو بحیرہ روم کے علاقے سے نمی لے کر آتے ہیں اور مارچ سے اپریل کے درمیان بارشوں کا سبب بنتے ہیں۔
موجودہ سسٹم سندھ میں بھی داخل ہوچکا ہے، جس کے باعث کراچی کے مضافاتی علاقوں گڈاپ اور سپر ہائی وے پر تیز بارش کی توقع ہے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق کراچی میں شہری سیلاب کا فوری خطرہ نہیں ہے۔
سندھ کے شمالی اضلاع کشمور، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر میں موسلادھار بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں کسی بڑے سیلابی خطرے کا امکان نہیں ہے۔
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید موسمی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس 2025 کے مطابق پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی خطرات سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جہاں غیر متوقع بارشیں اور سیلاب عام ہو رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا میں پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بارش کا سلسلہ جاری ہے، جہاں گرج چمک کے ساتھ بارش نے موسم کو سرد کردیا ہے۔ شدید بارش کے باعث بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی اور متعدد فیڈرز ٹرپ کرگئے۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارش کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سلسلہ 9 اپریل تک جاری رہ سکتا ہے۔ تیز ہواؤں اور گرج چمک کے باعث کمزور انفراسٹرکچر اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق زرعی شعبہ ملکی معیشت کا تقریباً 23 فیصد حصہ ہے، اور گندم کی کٹائی کے موجودہ سیزن میں بارشیں کسانوں کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہیں۔ سرکاری اندازوں کے مطابق 2025 میں گندم کی پیداوار تقریباً 28 ملین ٹن رہنے کی توقع ہے۔
حکام نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اپریل کے دوران مزید مغربی ہوائیں داخل ہوسکتی ہیں، جس سے بارشوں کا سلسلہ طول پکڑ سکتا ہے اور شہری نظم و نسق کے لیے چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔
UrduLead UrduLead