
Federal Investigation Agency کے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے Oil and Gas Regulatory Authority میں مبینہ میگا کرپشن، پٹرولیم اسٹاکس میں ہیر پھیر اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے کیس میں تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کرتے ہوئے اوگرا کے ممبر آئل زین العابدین قریشی کو طلب کر لیا ہے۔
دستیاب دستاویزات کے مطابق ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل کراچی نے انکوائری نمبر 43/2026 کے تحت ممبر آئل زین العابدین قریشی کو باضابطہ کال اپ نوٹس جاری کیا ہے، جس میں انہیں 25 مئی 2026 بروز پیر صبح 9 بجے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات میں Go Petroleum سمیت متعدد آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے خلاف پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر چھپانے، غلط رپورٹنگ، پرائس ڈیفرینشل کلیمز (PDCs) میں مبینہ فراڈ اور ریگولیٹری اہلکاروں و ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ مبینہ ملی بھگت کے الزامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ایف آئی اے کی جانب سے جاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی شواہد کی روشنی میں ممبر آئل اوگرا کے کردار سے متعلق اہم سوالات سامنے آئے ہیں، کیونکہ آئل سپلائی چین، اسٹاک مانیٹرنگ اور قیمتوں کے نظام کی نگرانی ان کے دائرہ اختیار میں شامل ہے۔
تحقیقاتی ٹیم نے اوگرا حکام سے حساس ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے، جس میں پی ڈی سیز میکانزم، کلیمز، انسپیکشن رپورٹس، ٹرمینلز کے معائنے، شوکاز نوٹسز اور اہم انتظامی فیصلوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کیس میں مزید اہم شخصیات کو بھی طلب کیے جانے کا امکان ہے جبکہ ایف آئی اے شواہد کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر قانونی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔
UrduLead UrduLead