دونوں ممالک کے درمیان غیر رسمی اور پس پردہ سفارتی رابطوں کے متعدد ادوار

نئی دہلی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ایک نئی بحث اس وقت شروع ہوئی جب حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسابالے نے پاکستان سے مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔
بھارتی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ “دروازے بند نہیں کرنے چاہئیں، ہمیں ہمیشہ مذاکرات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔” ان کے اس بیان نے بھارتی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی، جہاں اپوزیشن نے حکومت کے سخت مؤقف سے اس کے تضاد پر سوالات اٹھا دیے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت ماضی میں بارہا یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ “دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ نہیں چل سکتے”، تاہم آر ایس ایس کے اس بیان نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا دہلی میں پالیسی تبدیلی کے اشارے سامنے آ رہے ہیں۔
بھارتی فوج کے سابق سربراہ جنرل منوج نروانے نے بھی آر ایس ایس رہنما کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوامی سطح پر تعلقات بہتر ہوں تو ریاستی سطح پر بھی بہتری آ سکتی ہے۔ ان بیانات کے بعد یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ بھارت کے بعض حلقے پاکستان کے ساتھ دوبارہ سفارتی روابط کے حامی ہیں۔
ادھر پاکستان نے ان بیانات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد امید کرتا ہے کہ بھارت میں “دانشمندی کی آوازیں” غالب آئیں گی۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اگر بات چیت کی کوئی سنجیدہ پیش رفت ہوئی تو اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران دونوں ممالک کے درمیان غیر رسمی اور پس پردہ سفارتی رابطوں کے متعدد ادوار بھی سامنے آئے ہیں، جن میں ریٹائرڈ فوجی افسران، سفارت کاروں اور پالیسی ماہرین کی ملاقاتیں شامل ہیں۔ یہ ملاقاتیں مسقط، دوحہ، تھائی لینڈ اور لندن میں ہوئیں، جنہیں “ٹریک 1.5” اور “ٹریک 2” ڈائیلاگ کہا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ غیر رسمی مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے ایک اہم ذریعہ ہیں، تاہم باضابطہ مذاکرات کی بحالی اب بھی ایک پیچیدہ اور سیاسی طور پر حساس معاملہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2025 کی مختصر جنگ اور اس کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی نے خطے کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ تاہم بدلتی ہوئی عالمی سفارتی صورتحال، امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کی ترجیحات میں تبدیلی اور خطے میں نئی سیاسی حقیقتیں دونوں ممالک کو دوبارہ رابطوں پر مجبور کر سکتی ہیں۔
بھارتی آرمی چیف جنرل اوپیندر دویدی کے حالیہ سخت بیان اور پاکستان کی فوج کے ردعمل نے ایک بار پھر ظاہر کیا ہے کہ سرکاری سطح پر کشیدگی برقرار ہے۔ اسی دوران انڈس واٹر ٹریٹی سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے نے بھی دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ سفارتی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے، تاہم سیاسی اعتماد کی کمی اور سخت بیانات کے باعث باضابطہ مذاکرات کی بحالی ابھی دور دکھائی دیتی ہے۔
UrduLead UrduLead