اتوار , مئی 24 2026

پاکستان کا چین سے ٹیرف مراعات کا مطالبہ

پاکستان نے پاک-چین آزاد تجارتی معاہدے (سی پی ایف ٹی اے) کے تیسرے مرحلے کے تحت چین سے تقریباً 700 اشیاء پر یکطرفہ ٹیرف رعایتیں دینے کی باضابطہ درخواست کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ پاکستان کو بھی وہی تجارتی سہولیات حاصل ہوں جو چین نے افریقی اور آسیان ممالک کو دے رکھی ہیں۔

بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق وزیرِاعظم شہباز شریف کے آئندہ دورۂ چین سے قبل وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور سیکریٹری تجارت جواد پال پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد پہلے ہی بیجنگ میں موجود ہے، جہاں وہ چینی حکام کے ساتھ مشاورت اور مذاکرات میں مصروف ہے۔ دیگر متعلقہ وزراء اور اعلیٰ حکام بھی اس عمل میں معاونت کے لیے چین میں موجود ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران پاکستان نے چین کو 2.375 ارب ڈالر کی برآمدات کیں، جن میں سے 2.16 ارب ڈالر کی برآمدات موجودہ آزاد تجارتی فریم ورک کے تحت ہوئیں۔ تاہم پاکستان کو اب بھی شدید تجارتی عدم توازن کا سامنا ہے، جہاں چین سے درآمدات تقریباً 20 ارب ڈالر کے قریب ہیں جبکہ برآمدات صرف 2 ارب ڈالر تک محدود ہیں۔

گزشتہ پانچ برسوں میں چین سے پاکستان کی درآمدات 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں، جبکہ پاکستان کی برآمدات تقریباً 10 ارب ڈالر رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس عدم توازن کی بڑی وجہ پاکستان کا برآمداتی ڈھانچہ ہے جو زیادہ تر خام مال جیسے کپاس اور تانبے پر انحصار کرتا ہے، جسے بعد ازاں زیادہ قیمت والی تیار شدہ مصنوعات کی شکل میں دوبارہ درآمد کیا جاتا ہے۔

حکام نے زور دیا ہے کہ پاکستان کو ویلیو ایڈڈ برآمدات، خصوصاً ٹیکسٹائل، معدنیات اور گوشت کے شعبوں پر توجہ دینا ہوگی، جہاں صرف گوشت کی برآمدات کا امکان 5 ارب ڈالر تک بتایا جاتا ہے۔

مذاکرات کے تحت پاکستان نے 700 ٹیرف لائنز پر مشتمل ایک فہرست تیار کی ہے جبکہ صحت عامہ اور نباتاتی تحفظ (SPS) اور تکنیکی تجارتی رکاوٹوں سے متعلق ایک درجن سے زائد پروٹوکولز پر پہلے ہی دستخط ہو چکے ہیں۔ خنجراب کے مقام پر گرین چینل کے قیام کی تجویز بھی زیر غور ہے تاکہ تجارت کو مزید آسان بنایا جا سکے۔

پاکستانی حکام کے مطابق چین نے حال ہی میں 53 افریقی ممالک کو یکم مئی 2026 سے زیرو ٹیرف رسائی دی ہے، جبکہ آسیان ممالک بھی مسلسل ترجیحی تجارتی مراعات سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں سی پی ایف ٹی اے کے ابتدائی فوائد متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہیں ہو سکا۔

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ اگر چین مجوزہ اشیاء پر زیرو ٹیرف دینے پر رضامند ہوتا ہے تو پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے، جس سے تجارتی خسارے میں کمی اور ادائیگیوں کے توازن پر دباؤ میں کمی آئے گی۔

مزید برآں پاکستان چاول کی برآمدات کے لیے خصوصی رعایتیں، ایک فیصد درآمدی ڈیوٹی میں نرمی اور مخصوص کوٹے کی فراہمی کا بھی خواہاں ہے، جبکہ پاکستانی تاجروں اور برآمد کنندگان کے لیے ویزا سہولتوں میں بہتری کی درخواست بھی مذاکراتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ طویل المدتی تجارتی توازن کے لیے چین کی جانب سے پاکستانی برآمدی شعبوں میں سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی بھی ناگزیر ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاک-بھارت مذاکرات: سیاسی و عسکری حلقوں میں بحث

دونوں ممالک کے درمیان غیر رسمی اور پس پردہ سفارتی رابطوں کے متعدد ادوار نئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے