اتوار , مئی 24 2026

راولپنڈی-اسلام آباد میں کشمیری کے بعد مٹکا فالودہ

شدید گرمی کے موسم میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے شہری ٹھنڈے اور میٹھے مشروبات کی جانب راغب ہیں، جبکہ فالودہ دونوں شہروں کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی روایتی میٹھی ڈشز میں شامل ہو چکا ہے۔ شام ڈھلتے ہی مختلف بازاروں، فوڈ اسٹریٹس اور پرانے علاقوں میں فالودہ فروشوں کے باہر رش بڑھ جاتا ہے۔

راولپنڈی کے تاریخی علاقے راجہ بازار، کمیٹی چوک، صدر، ٹینچ بھاٹہ اور کمرشل مارکیٹ میں فالودہ کی دکانیں کئی دہائیوں سے شہریوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ دودھ، ربڑی، سیویاں، تخم ملنگا، آئس کریم اور رنگ برنگے شربت سے تیار کیا جانے والا فالودہ نہ صرف گرمی سے وقتی ریلیف دیتا ہے بلکہ خاندانی اور ثقافتی روایت کا حصہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

شہریوں کے مطابق پرانے پنڈی کا “کشمیری فالودہ” اور ربڑی والا فالودہ خاص شہرت رکھتا ہے۔ کئی دکاندار نسلوں سے یہ کاروبار چلا رہے ہیں اور گرمیوں کے موسم میں روزانہ سینکڑوں گلاس فروخت کرتے ہیں۔ بعض مشہور دکانوں پر رات گئے تک خریداروں کا رش برقرار رہتا ہے۔

اسلام آباد میں بھی فالودہ کلچر تیزی سے مقبول ہوا ہے، خاص طور پر ایف-10، جی-9، میلوڈی فوڈ پارک، بحریہ ٹاؤن اور مختلف مارکیٹوں میں جدید انداز کے فالودہ پوائنٹس نوجوانوں کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہاں روایتی فالودے کے ساتھ مینگو فالودہ، چاکلیٹ فالودہ اور آئس کریم اسپیشل فالودہ بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔

اسلام آباد میں “ہاشر سویٹس” کا مٹکا فالودہ بھی شہریوں میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ ہاشر سویٹس کا مٹکا فالودہ اپنی منفرد پیشکش، گاڑھے دودھ، ربڑی، آئس کریم اور خصوصی ذائقے کی وجہ سے شہر کی نمایاں ڈش بن چکا ہے۔ نوجوان، خاندان اور فوڈ بلاگرز بڑی تعداد میں یہاں کا رخ کرتے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی اس فالودے کی تصاویر اور ویڈیوز تیزی سے وائرل ہوتی رہتی ہیں۔

فوڈ ماہرین کے مطابق فالودہ برصغیر کی قدیم میٹھی ڈش ہے جو مغل دور سے مقبول رہی ہے۔ پاکستان میں اس کی مقبولیت گرمیوں میں مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ ٹھنڈک اور توانائی دونوں فراہم کرتا ہے۔ تاہم ماہرین صحت نے شہریوں کو صاف پانی، معیاری دودھ اور حفظانِ صحت کا خیال رکھنے والی دکانوں سے فالودہ خریدنے کا مشورہ دیا ہے۔

راولپنڈی اور اسلام آباد میں کئی معروف فالودہ پوائنٹس اب سوشل میڈیا کی بدولت بھی شہرت حاصل کر رہے ہیں، جہاں نوجوان تصاویر اور ویڈیوز شیئر کر کے مختلف ذائقوں کو متعارف کراتے ہیں۔ بعض دکانوں نے آن لائن ڈیلیوری سروس بھی شروع کر دی ہے تاکہ گرمی کے موسم میں گھروں تک فالودہ پہنچایا جا سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی میں فالودہ صرف ایک میٹھا مشروب نہیں بلکہ دونوں شہروں کی فوڈ کلچر کا اہم حصہ بن چکا ہے، جو ہر عمر کے افراد کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پاکستان کا چین سے ٹیرف مراعات کا مطالبہ

پاکستان نے پاک-چین آزاد تجارتی معاہدے (سی پی ایف ٹی اے) کے تیسرے مرحلے کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے