ماہرین نے احتیاط کی ہدایت کر دی

پاکستان بھر میں شدید گرمی اور خشک موسم کے باعث ٹھنڈے مشروبات، لسی، شربت، گنے کا رس اور دیسی مشروبات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے، جبکہ ماہرین صحت نے شہریوں کو غیر معیاری اور مضر صحت مشروبات سے محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ملک کے مختلف شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد شہری گرمی سے بچاؤ کے لیے روایتی اور ٹھنڈے مشروبات کا رخ کر رہے ہیں۔ لاہور، کراچی، ملتان، فیصل آباد اور پشاور سمیت کئی شہروں میں لیموں پانی، روح افزا، سکنجبین، ستو، فالودہ، لسی اور گنے کے رس کی دکانوں پر رش بڑھ گیا ہے۔
ماہرین غذائیت کے مطابق گرمیوں میں جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو پورا کرنے کے لیے قدرتی مشروبات انتہائی مفید ہوتے ہیں۔ لسی، ناریل پانی، تازہ پھلوں کے جوس اور سادہ پانی جسم کو ٹھنڈا رکھنے اور ہیٹ اسٹروک سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
دوسری جانب طبی ماہرین نے بازاروں میں فروخت ہونے والے غیر معیاری رنگین مشروبات، مصنوعی فلیورز اور کھلے عام تیار کیے جانے والے شربتوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق آلودہ پانی اور ناقص برف سے تیار مشروبات پیٹ کی بیماریوں، ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور گلے کے انفیکشن کا باعث بن سکتے ہیں۔
بازاروں میں گنے کے رس، دودھ سوڈا اور گولے گنڈے کی فروخت بھی عروج پر ہے، تاہم فوڈ اتھارٹی حکام نے شہریوں کو صفائی کا خیال رکھنے والی دکانوں سے اشیا خریدنے کا مشورہ دیا ہے۔ حکام کے مطابق گرمیوں میں غیر معیاری مشروبات فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
ماہرین موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ جنوبی اضلاع میں شدید گرمی برقرار رہے گی۔ ایسے حالات میں ماہرین نے شہریوں کو زیادہ پانی پینے، دھوپ میں غیر ضروری نکلنے سے گریز کرنے اور بچوں و بزرگوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت کی ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرمیوں میں مناسب غذائیت اور محفوظ مشروبات کا استعمال نہ صرف جسمانی توانائی برقرار رکھتا ہے بلکہ موسمی بیماریوں سے تحفظ میں بھی مدد دیتا ہے۔
نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
UrduLead UrduLead