جو سورج کی روشنی کو حرارت میں محفوظ کر کے بعد میں استعمال کرتی ہے

امریکا میں محققین نے توانائی ذخیرہ کرنے کی ایک نئی ٹیکنالوجی تیار کی ہے جو روایتی بیٹریوں کے بجائے سورج کی روشنی کو براہِ راست مالیکیولز میں محفوظ کرتی ہے اور بعد میں اسے حرارت کی صورت میں خارج کرتی ہے۔
یہ پیش رفت کیلیفورنیا یونیورسٹی سانتا باربرا (University of California, Santa Barbara) کے سائنسدانوں نے حاصل کی ہے۔ انہوں نے ایک ایسا “مالیکیولر سولر تھرمل” نظام تیار کیا ہے جو سورج کی روشنی جذب کر کے اسے کیمیائی بندھنوں میں محفوظ کرتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے دوبارہ حرارت میں تبدیل کرتا ہے، جو پانی کو اُبالنے تک کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ تحقیق پروفیسر Grace Han اور ان کی ٹیم کی قیادت میں کی گئی۔ محققین کے مطابق یہ نظام ایک “ریچارج ایبل سولر بیٹری” کے طور پر کام کرتا ہے، جو روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کے برعکس بجلی کے بجائے توانائی کو مالیکیولر شکل میں محفوظ کرتا ہے۔
ڈاکٹریٹ کے طالب علم Benjamin Baker نے بتایا کہ عام حالات میں پانی کو اُبال کر اس ٹیکنالوجی کی عملی افادیت ثابت کرنا ایک اہم سنگ میل ہے۔ ان کے مطابق یہ نظام دور دراز علاقوں میں حرارتی ضروریات، جیسے پانی گرم کرنا یا کیمپنگ کے استعمال کے لیے خاص طور پر مفید ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق اس مواد کی توانائی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 1.6 میگا جول فی کلوگرام ہے، جو بعض روایتی بیٹریوں سے زیادہ ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں یہ امکان بھی موجود ہے کہ اسے مائع شکل میں سولر کلیکٹرز میں گردش دے کر دن کے وقت توانائی محفوظ کی جائے اور رات کے وقت حرارت خارج کی جائے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں لیتھیم پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل ٹیکنالوجیز پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اسی سلسلے میں چین کے محققین نے بھی کم لاگت اور ماحول دوست اسٹوریج سسٹمز پر پیش رفت کی ہے، جن میں آل آئرن فلو بیٹری شامل ہے جسے چینی اکیڈمی آف سائنسز (Chinese Academy of Sciences) کے انسٹی ٹیوٹ آف میٹل ریسرچ (Institute of Metal Research, Chinese Academy of Sciences) نے تیار کیا ہے۔
یہ نظام سستے اور وافر مقدار میں موجود مواد پر مبنی ہے اور طویل عرصے تک کارکردگی برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے بڑے پیمانے پر قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مراحل میں ہے، لیکن یہ مستقبل میں شمسی توانائی کو محفوظ کرنے کے طریقوں میں ایک اہم تبدیلی لا سکتی ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں بجلی کا بنیادی ڈھانچہ محدود ہے۔
UrduLead UrduLead