زائرین کے لیے جدید ڈیجیٹل سہولیات متعارف

دنیا بھر سے لاکھوں مسلمان رواں سال حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب پہنچنے کی تیاری کر رہے ہیں، ایسے میں سعودی حکومت نے حج انتظامات کو مزید مؤثر، محفوظ اور سہل بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے استعمال کو نمایاں طور پر وسعت دے دی ہے۔
سعودی عرب کی Saudi Data and Artificial Intelligence Authority (SDAIA) حج کے دوران مختلف اے آئی پلیٹ فارمز اور اسمارٹ سروسز چلا رہی ہے، جن کا مقصد عازمینِ حج کے سفر کو روانگی سے واپسی تک زیادہ محفوظ اور منظم بنانا ہے۔
ایس ڈی اے آئی اے کے ترجمان ماجد الشہری کے مطابق سعودی عرب کی کوشش ہے کہ مصنوعی ذہانت پسِ منظر میں رہتے ہوئے ہر مرحلے پر حجاج کرام کے لیے سفر کو آسان، محفوظ اور مؤثر بنائے۔
حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت اب بڑے پیمانے پر ہجوم کو کنٹرول کرنے، پیشگی خدشات کا اندازہ لگانے، فوری فیصلے کرنے اور سیکیورٹی انتظامات بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔
رواں حج سیزن میں خاص توجہ Masjid al-Haram، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں ہجوم کے نظم و نسق پر دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے “بصیر” اور “سواہر” جیسے جدید پلیٹ فارمز استعمال کیے جا رہے ہیں، جو کمپیوٹر وژن، تھرمل امیجنگ اور اے آئی اینالیٹکس کے ذریعے حقیقی وقت میں ہجوم کی نقل و حرکت اور کثافت کا جائزہ لیتے ہیں۔
یہ نظام لائیو ویڈیو فیڈز اور نگرانی کے ڈیٹا کا تجزیہ کرکے رش والے مقامات کی نشاندہی کرتے ہیں، ممکنہ ہجوم کے دباؤ کی پیشگوئی کرتے ہیں اور متعلقہ اداروں کو فوری کارروائی میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
سعودی عرب نے اس سال متعدد زبانوں میں رہنمائی فراہم کرنے والے اے آئی روبوٹس بھی متعارف کرائے ہیں، جو زائرین کو مذہبی معلومات، سوالات کے جوابات، مقامات کی رہنمائی اور فوری ترجمہ کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔
حج کے دوران ڈیجیٹل سہولیات کے دائرہ کار کو بھی مزید وسیع کیا گیا ہے۔ “مکہ روٹ انیشی ایٹو” سے اب تک 15 لاکھ سے زائد عازمین فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ یہ نظام 10 ممالک کے 17 ہوائی اڈوں پر فعال ہے اور بائیومیٹرک تصدیق سمیت متعدد سفری مراحل سعودی عرب روانگی سے قبل مکمل کرنے کی سہولت دیتا ہے۔
اسی طرح Tawakkalna اور Nusuk ایپس بھی حج انتظامات میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں، جن کے ذریعے 1300 سے زائد ڈیجیٹل خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ان خدمات میں ڈیجیٹل حج پرمٹ، راستہ تلاش کرنے کی سہولت، موسم کی معلومات، ہنگامی امداد، ایمبولینس کی درخواست، قبلہ سمت کی رہنمائی اور “نسک کارڈ” کے ذریعے ڈیجیٹل شناخت شامل ہے، جس میں طبی ریکارڈ اور ایمرجنسی رابطہ معلومات بھی موجود ہوتی ہیں۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حج آپریشنز میں مصنوعی ذہانت کا بڑھتا ہوا استعمال مملکت کے اس وسیع وژن کا حصہ ہے جس کے تحت سعودی عرب خود کو ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن اور اسمارٹ گورننس میں عالمی رہنما کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔
حکام کے مطابق مستقبل میں Mecca اور Medina میں اسمارٹ سٹی انفراسٹرکچر کی توسیع کے ساتھ اے آئی، روبوٹکس، اسمارٹ نگرانی اور خودکار نظام حج انتظامات میں مزید اہم کردار ادا کریں گے۔
UrduLead UrduLead