اتوار , اپریل 5 2026

مزید بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

محکمہ موسمیات نے 5 سے 9 اپریل کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کی پیشگوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کردیا

محکمہ موسمیات کے مطابق مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ 5 اپریل کی شام بلوچستان کے مغربی علاقوں میں داخل ہوگا۔ یہ موسمی نظام بالائی علاقوں میں 9 اپریل تک برقرار رہنے کا امکان رکھتا ہے، جس سے درجہ حرارت میں کمی اور موسم خوشگوار ہونے کی توقع ہے۔

بلوچستان کے اضلاع پنجگور، گوادر، پسنی، تربت، خضدار، قلات، کوئٹہ اور ژوب میں 5 سے 7 اپریل کے دوران بارشیں متوقع ہیں۔ اسی دوران بارکھان، لسبیلہ، کوہلو اور نصیر آباد میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش ہوسکتی ہے۔ ساحلی پٹی پر تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 6 سے 9 اپریل کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ متاثرہ شہروں میں راولپنڈی، اٹک، جہلم، چکوال، سرگودھا، میانوالی، خوشاب، فیصل آباد، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال اور شیخوپورہ شامل ہیں۔ ان علاقوں میں بعض مقامات پر تیز بارش اور ژالہ باری کا بھی امکان ہے، جس سے زرعی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔

سندھ کے بالائی اضلاع سکھر، لاڑکانہ، دادو، جیکب آباد اور شکارپور میں 6 اپریل کو گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یہ بارشیں محدود دورانیے کی ہوں گی مگر مقامی سطح پر موسم میں نمایاں تبدیلی لاسکتی ہیں۔

شمالی علاقوں میں موسم زیادہ شدت اختیار کرسکتا ہے۔ گلگت بلتستان کے اضلاع استور، اسکردو، گلگت، ہنزہ، نگر اور غذر میں بارش کے ساتھ پہاڑوں پر برفباری متوقع ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر کے علاقوں باغ، راولاکوٹ اور وادی نیلم میں بھی بارش اور برفباری کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے بالائی علاقوں میں سردی کی لہر واپس آسکتی ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق اپریل کے آغاز میں مغربی ہواؤں کے ایسے سلسلے معمول کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم حالیہ برسوں میں موسمی شدت میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی موسمیاتی ادارے کی رپورٹس کے مطابق خطے میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث بارشوں کے پیٹرن میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں گزشتہ برس غیر معمولی بارشوں اور سیلاب نے معیشت اور زراعت کو شدید نقصان پہنچایا تھا۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں بارشوں سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں کا بڑا حصہ تباہ ہوا، جس کے اثرات اب بھی زرعی پیداوار پر موجود ہیں۔

حکام نے متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور موسمی اپڈیٹس پر نظر رکھنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

آج ایسٹر کی تقریبات، عبادات اور دعائیں

پاکستان بھر میں مسیحی برادری نے ایسٹر مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا، گرجا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے