اتوار , اپریل 5 2026

آج ایسٹر کی تقریبات، عبادات اور دعائیں

پاکستان بھر میں مسیحی برادری نے ایسٹر مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا، گرجا گھروں میں خصوصی عبادات اور امن و یکجہتی کی دعائیں کی گئیں

ملک کے بڑے شہروں لاہور، کراچی، اسلام آباد اور راولپنڈی میں صبح سویرے ہی گرجا گھر نمازیوں سے بھر گئے۔ Easter مسیحیت کا ایک اہم ترین تہوار ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ زندہ ہونے کی یاد میں منایا جاتا ہے اور امید، نجات اور نئی زندگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

گرجا گھروں میں خصوصی دعائیہ تقاریب کا انعقاد کیا گیا، جن کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ حکام نے عبادت گاہوں کے اطراف اضافی پولیس تعینات کی تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ لاہور کے تاریخی گرجا گھروں میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی، جبکہ کراچی اور اسلام آباد میں بھی اسی طرح کے مناظر دیکھنے میں آئے۔

پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق پاکستان میں مسیحی برادری آبادی کا تقریباً 1.6 فیصد حصہ ہے۔ ایسٹر اور کرسمس اس کمیونٹی کے اہم مذہبی تہوار ہیں، جو نہ صرف عبادات بلکہ سماجی میل جول کا بھی ذریعہ بنتے ہیں۔

مذہبی رہنماؤں نے اپنے خطبات میں قربانی، محبت اور برداشت کے پیغام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے ملک میں بین المذاہب ہم آہنگی اور امن کے فروغ پر زور دیا۔ خطبات میں کہا گیا کہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان احترام اور رواداری وقت کی اہم ضرورت ہے۔

گھروں میں بھی اس موقع پر خصوصی پکوان تیار کیے گئے اور خاندانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ خوشی کے لمحات گزارے۔ بچوں نے ایسٹر ایگز کی روایتی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جو نئی زندگی اور خوشی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شہروں کی مارکیٹوں میں ایسٹر سے قبل مٹھائیوں اور سجاوٹی اشیاء کی خریداری میں اضافہ دیکھا گیا۔

پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومتی اقدامات اور عدالتی فیصلوں کے ذریعے عبادت گاہوں کے تحفظ اور اقلیتوں کے حقوق کے فروغ کی کوششیں کی گئی ہیں، تاہم سماجی تنظیمیں مزید عملی اقدامات پر زور دیتی ہیں۔

سیکیورٹی اداروں کے لیے مذہبی تہواروں کے دوران حفاظتی اقدامات ہمیشہ اہم رہتے ہیں۔ وزارت داخلہ اور صوبائی حکومتیں مشترکہ حکمت عملی کے تحت سیکیورٹی پلان ترتیب دیتی ہیں تاکہ تقریبات پرامن طریقے سے منعقد ہوسکیں۔

معاشی دباؤ نے اس سال کی تقریبات کو بھی متاثر کیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی حالیہ رپورٹس کے مطابق مہنگائی نے گھریلو اخراجات میں اضافہ کیا ہے، تاہم اس کے باوجود مسیحی برادری نے بھرپور انداز میں ایسٹر منایا۔

پاکستان میں مسیحی برادری تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ ملک بھر میں کئی معروف تعلیمی ادارے اور اسپتال اس کمیونٹی کے زیر انتظام ہیں، جو قومی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

ایسے حالات میں ایسٹر جیسے تہوار ملک میں اتحاد اور امید کا پیغام دیتے ہیں۔ مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے مکالمے اور تعاون کو ملک کے روشن مستقبل کے لیے ضروری قرار دیا ہے، جبکہ ایسٹر کی تقریبات پاکستان میں مذہبی ہم آہنگی کی ایک اہم مثال بن کر سامنے آئی ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

مزید بارشوں کی پیشگوئی، الرٹ جاری

محکمہ موسمیات نے 5 سے 9 اپریل کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے