
حالیہ طبی تحقیق نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں LDL کولیسٹرول (“برا کولیسٹرول”) کو شدید طور پر کم کرنا انتہائی مؤثر ہے۔
LDL ہدف کم کرنے کے فوائد
Ez-PAVE ٹرائل، جو حال ہی میں ACC.26 میں پیش کیا گیا، نے ظاہر کیا کہ اگر LDL-C کو 70 mg/dL کی روایتی حد کے بجائے 55 mg/dL سے بھی کم رکھا جائے تو تین سال میں اہم قلبی واقعات میں 33 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس میں غیر مہلک دل کے دورے اور ریوایسکولرائزیشن کی شرح کم ہونا شامل تھا، جبکہ کوئی اضافی حفاظتی خطرہ سامنے نہیں آیا۔
اسی سلسلے میں ایک اور تحقیق میں PCSK9 انہیبیٹر evolocumab کو معمول کے علاج کے ساتھ استعمال کرنے سے ذیابیطس کے اعلی خطرے والے مریضوں میں پہلی بار دل کے دورے یا فالج کے خطرے میں 31 فیصد کمی ہوئی، حتیٰ کہ ان مریضوں میں پہلے سے شریان کی بیماری موجود نہیں تھی۔
یہ نتائج 2026 ACC/AHA dyslipidemia گائیڈلائنز کی تائید کرتے ہیں، جو نوجوانوں میں بھی جلد از جلد اور زیادہ شدت کے ساتھ کولیسٹرول کم کرنے، اور بہت زیادہ خطرے والے مریضوں کے لیے LDL-C ہدف <55 mg/dL، اور دیگر کے لیے <70 mg/dL مقرر کرنے پر زور دیتی ہیں۔
خوراک اور قلبی صحت
American Heart Association نے نئی غذائی رہنمائی جاری کی ہے جس میں پودوں پر مبنی پروٹین (دالیں، گری دار میوے، بیج)، مچھلی اور سمندری غذا، اور کم چکنائی یا فری ڈیری مصنوعات کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ سرخ/پروسس شدہ گوشت، فل فیٹ ڈیری، چینی، نمک اور الٹرا پروسیسڈ فوڈز کی مقدار محدود کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غذائی معیار (whole foods اور کم پروسیسڈ خوراک) دل کی صحت کے لیے سب سے مؤثر ہے، نہ کہ صرف کارب یا چکنائی کم کرنے پر زور دینا۔
ڈیجیٹل ٹوئن دل اور ذاتی علاج
Johns Hopkins کے محققین نے ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی متعارف کرائی ہے، جس میں مریض کے دل کا ورچوئل ماڈل تیار کیا جاتا ہے تاکہ ventricular tachycardia جیسے خطرناک arrhythmias کے علاج کو پہلے سے آزمایا جا سکے۔ ابتدائی کلینیکل ٹرائل میں یہ طریقہ کار ڈاکٹروں کو بہتر منصوبہ بندی میں مدد دیتا ہے اور علاج کے خطرات کو کم کر سکتا ہے۔
دل کی بیماری کے رجحانات
امریکہ میں دل کی بیماری اب بھی اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے، جبکہ فالج چوتھے نمبر پر ہے۔ حالیہ اعداد و شمار میں اموات میں ہلکی کمی دیکھی گئی، لیکن تقریباً نصف بالغ افراد کسی نہ کسی شکل میں قلبی بیماری سے متاثر ہیں۔ خواتین اور نوجوانوں میں موٹاپا، ذیابیطس، بلند فشار خون اور طرز زندگی کے عوامل جیسے زیادہ اسکرین ٹائم بڑھتے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔
نئی تھراپیز اور ٹیکنالوجی
ابھرتی ہوئی تھراپیز میں مزاحم hypertension کے لیے نئی دوائیں (مثلاً baxdrostat) اور hypertrophic cardiomyopathy کے لیے mavacamten جیسی precision treatments شامل ہیں۔ ماہرین زور دیتے ہیں کہ طرز زندگی، ابتدائی خطرے کی جانچ، اور گائیڈلائن کے مطابق علاج دل کی بیماری کے خطرات کو کم کرنے کے لیے لازمی ہیں۔ AI، robotics، اور integrated health tools بھی علاج کو زیادہ مؤثر اور محفوظ بنا رہے ہیں۔
UrduLead UrduLead