لاہور قلندرز نے بارش سے متاثرہ میچ میں 20 رنز سے کامیابی حاصل کی، ملتان سلطانز ہدف کے تعاقب میں 165 رنز تک محدود رہی

لاہور میں کھیلے گئے Pakistan Super League سیزن 11 کے 11ویں میچ میں لاہور قلندرز نے ملتان سلطانز کو 20 رنز سے شکست دے دی۔ بارش کے باعث میچ کو 13 اوورز فی اننگز تک محدود کر دیا گیا، جس نے مقابلے کو تیز اور ہائی اسکورنگ بنا دیا۔ لاہور قلندرز نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 185 رنز بنائے، جو مختصر فارمیٹ میں ایک بڑا مجموعہ سمجھا جاتا ہے۔
ملتان سلطانز نے 186 رنز کے مشکل ہدف کا تعاقب کیا مگر مقررہ اوورز میں 5 وکٹوں پر 165 رنز ہی بنا سکی۔ کپتان Ashton Turner نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے ناقابل شکست 52 رنز بنائے، تاہم انہیں دوسرے اینڈ سے خاطر خواہ سپورٹ نہ مل سکی۔ Shan Masood نے 44 رنز کی اننگز کھیلی جبکہ عرفات منہاس نے 25 رنز جوڑے، مگر مطلوبہ رن ریٹ مسلسل بڑھتا رہا۔
لاہور قلندرز کی جانب سے بولنگ میں Mustafizur Rahman نے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ Shaheen Shah Afridi، Sikandar Raza اور عبید شاہ نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔ لاہور کے بولرز نے آخری اوورز میں سخت لائن اور لینتھ برقرار رکھی، جس سے ملتان کی ٹیم دباؤ میں آ گئی۔

اس سے قبل لاہور قلندرز نے جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔ محمد نعیم نے 60 رنز کی شاندار اننگز کھیلی اور پاور پلے میں ٹیم کو مضبوط آغاز فراہم کیا۔ پرویز حسین نے 45 رنز بنائے جبکہ Abdullah Shafique نے 33 رنز کا اضافہ کیا۔ مڈل آرڈر میں رفتار کچھ کم ہوئی مگر مجموعی اسکور تیزی سے آگے بڑھتا رہا۔
اختتامی اوورز میں سکندر رضا نے 13 رنز بنائے جبکہ شاہین آفریدی بغیر کوئی رن بنائے ناٹ آؤٹ رہے۔ لاہور کی ٹیم نے 13 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر 185 رنز کا بڑا مجموعہ ترتیب دیا، جو اس فارمیٹ میں میچ جیتنے کے لیے کافی ثابت ہوا۔
ملتان سلطانز کی بولنگ لائن میں محمد اسماعیل نے دو وکٹیں حاصل کیں، جبکہ فیصل اکرم اور پیٹر نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ تاہم، بولرز مطلوبہ کنٹرول برقرار نہ رکھ سکے اور لاہور کے بیٹرز نے انہیں مسلسل دباؤ میں رکھا۔
پی ایس ایل میں حالیہ سیزنز میں اسکورنگ ریٹس میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 اور 2025 کے سیزنز میں اوسط رن ریٹ 8.5 سے بڑھ کر 9.2 تک پہنچ گیا، جو ٹی20 کرکٹ میں بیٹنگ کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ قذافی اسٹیڈیم لاہور کی وکٹ روایتی طور پر بیٹنگ کے لیے سازگار سمجھی جاتی ہے، جہاں گزشتہ سیزن میں بھی کئی 180 سے زائد اسکور دیکھنے میں آئے۔
لاہور قلندرز گزشتہ چند سیزنز میں ایک مضبوط ٹیم کے طور پر ابھری ہے، خاص طور پر Shaheen Shah Afridi کی قیادت میں۔ ٹیم نے 2022 اور 2023 میں ٹائٹل جیت کر اپنی حیثیت مستحکم کی تھی۔ دوسری جانب ملتان سلطانز بھی حالیہ برسوں میں مستقل کارکردگی دکھانے والی ٹیم رہی ہے اور 2021 میں چیمپئن بن چکی ہے۔
حالیہ میچ میں بارش کے باعث اوورز کم ہونے سے کھیل کا توازن بیٹنگ کے حق میں جھک گیا، جیسا کہ ٹی20 کے مختصر فارمیٹس میں اکثر دیکھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے حالات میں پاور ہٹنگ اور ڈیتھ بولنگ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں، جو اس میچ میں بھی واضح نظر آیا۔
پی ایس ایل 11 کے جاری سیزن میں ٹیموں کے درمیان مقابلہ سخت ہوتا جا رہا ہے، اور ہر جیت پوائنٹس ٹیبل پر اہم اثر ڈال رہی ہے۔ لاہور قلندرز کی یہ کامیابی انہیں ٹورنامنٹ میں بہتر پوزیشن دلانے میں مدد دے گی، جبکہ ملتان سلطانز کو آئندہ میچز میں اپنی بولنگ حکمت عملی بہتر بنانا ہوگی۔
UrduLead UrduLead