جمعہ , اپریل 3 2026

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کرایوں میں اضافہ

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے میٹرو اور بین الاضلاعی کرایوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹرز نے 60 فیصد اضافے اور ہڑتال کی وارننگ دے دی

پنجاب میں عوامی اور نجی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ ایندھن کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے سفری اخراجات کو نمایاں طور پر بڑھا دیا ہے، جس سے روزانہ سفر کرنے والے افراد شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی نے 26 مارچ سے میٹرو بس کرایوں میں 33 فیصد اضافہ کیا، جس کے بعد لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں کرایہ 30 روپے سے بڑھا کر 40 روپے کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ اضافہ بڑھتے ہوئے ایندھن اور آپریشنل اخراجات کے باعث کیا گیا، جبکہ گرین ٹرانسپورٹ کارڈ رکھنے والے مسافروں کے لیے کرایہ اب بھی 25 روپے برقرار ہے۔

یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک بھر میں ٹرانسپورٹ سیکٹر ایندھن کی بڑھتی قیمتوں پر شدید ردعمل دے رہا ہے۔ پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے خبردار کیا ہے کہ ٹرانسپورٹرز 60 فیصد تک کرایوں میں اضافہ کریں گے اور اگر حکومتی پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو ملک بھر میں ٹرانسپورٹ بند ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں 205 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 263.78 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ڈیزل مہنگا ہونے سے مال برداری کے اخراجات میں براہ راست اضافہ ہوتا ہے، جس سے مہنگائی میں تیزی آتی ہے۔

پنجاب میں بین الاضلاعی سفر بھی مہنگا ہو چکا ہے، جہاں نجی کمپنیوں جیسے فیصل موورز اور ڈائیوو ایکسپریس نے مارچ میں کرایوں میں 20 سے 25 فیصد اضافہ کیا۔ لاہور سے کراچی جیسے طویل روٹس پر لگژری کرایے 5900 روپے سے بڑھ کر 10 ہزار روپے سے تجاوز کر گئے ہیں، جبکہ لاہور سے اسلام آباد جیسے روٹس پر کرایے 2000 سے 3300 روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

اگرچہ 3 اپریل تک مزید اضافے کا کوئی سرکاری نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، تاہم نجی آپریٹرز عموماً ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر کرایوں میں شامل کر دیتے ہیں۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق آنے والے دنوں میں مزید اضافے کا امکان ہے۔

قومی ٹرانسپورٹ ریسرچ سینٹر کے اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 فیصد مال برداری سڑکوں کے ذریعے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔

آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کے مطابق عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں کمی نے مقامی قیمتوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان بھی توانائی کی درآمدات کو مہنگائی اور بیرونی کھاتوں کے دباؤ کی بڑی وجہ قرار دے چکا ہے۔

ادارہ شماریات پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق ٹرانسپورٹ اور ایندھن کے اخراجات کنزیومر پرائس انڈیکس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں پر ان کا اثر نمایاں ہوتا ہے۔

ماضی میں بھی 2022 اور 2023 کے دوران ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کرایوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں مہنگائی دوہرے ہندسوں میں پہنچ گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق ٹرانسپورٹ لاگت معیشت کے مختلف شعبوں پر ضربی اثر ڈالتی ہے۔

پنجاب حکومت، وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر، کرایوں کی نگرانی کر رہی ہے اور اوورچارجنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کرایوں کی تصدیق بکنگ پلیٹ فارمز اور ایپس کے ذریعے کریں۔

تاہم ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتیں، مہنگے اسپیئر پارٹس اور ٹول ٹیکس نے ان کے منافع کو شدید متاثر کیا ہے، جس کے باعث کرایوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔

پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جس کے تحت ایندھن کی قیمتوں کو عالمی منڈی کے مطابق رکھنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے، جس سے سبسڈی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرانسپورٹرز نے 60 فیصد اضافے پر عمل کیا تو اس کے اثرات صرف مسافروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا۔ موجودہ صورتحال میں ایندھن کی بڑھتی قیمتیں پنجاب سمیت ملک بھر میں ٹرانسپورٹ اور مہنگائی کے رجحانات کا تعین کرتی رہیں گی۔

About Aftab Ahmed

Check Also

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں  بڑا اضافہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے