پاکستان کا تجارتی خسارہ مالی سال کے پہلے نو ماہ میں بڑھ کر 27.8 ارب ڈالر ہو گیا، درآمدات میں اضافے اور برآمدات میں کمی کے باعث

Pakistan Bureau of Statistics کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ جولائی تا مارچ مالی سال 2025-26 کے دوران نمایاں طور پر بڑھ گیا، اگرچہ مارچ میں ماہانہ بنیاد پر کچھ بہتری دیکھی گئی۔
اعداد و شمار کے مطابق پہلے نو ماہ میں تجارتی خسارہ 22.65 فیصد اضافے کے ساتھ 27.8 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 22.67 ارب ڈالر تھا۔ پاکستانی روپے میں یہ خسارہ 23.99 فیصد بڑھ کر 7.83 کھرب روپے ریکارڈ کیا گیا۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں اضافہ رہا، جو 6.64 فیصد بڑھ کر 50.54 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 47.39 ارب ڈالر تھیں۔ اس کے برعکس برآمدات 8.04 فیصد کمی کے ساتھ 22.73 ارب ڈالر رہیں، جو پچھلے سال 24.72 ارب ڈالر تھیں۔
تاہم ماہانہ بنیاد پر مارچ 2026 میں کچھ بہتری سامنے آئی، جہاں تجارتی خسارہ 9.36 فیصد کم ہو کر 2.73 ارب ڈالر رہ گیا، جو فروری میں 3.01 ارب ڈالر تھا۔ اس کمی کی بڑی وجہ درآمدات میں نمایاں کمی تھی۔
مارچ میں درآمدات 5.57 فیصد کم ہو کر 4.99 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ فروری میں یہ 5.29 ارب ڈالر تھیں۔ برآمدات میں بھی معمولی کمی دیکھی گئی اور یہ 0.55 فیصد کم ہو کر 2.26 ارب ڈالر رہیں۔
سالانہ بنیاد پر مارچ کے مہینے میں برآمدات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جو 14.40 فیصد کم ہو کر 2.26 ارب ڈالر رہیں، جبکہ مارچ 2025 میں یہ 2.65 ارب ڈالر تھیں۔ یہ کمی برآمدی شعبوں، خصوصاً ٹیکسٹائل، میں سست روی کی نشاندہی کرتی ہے۔
درآمدات بھی سالانہ بنیاد پر 5.37 فیصد کم ہوئیں، تاہم اس کے باوجود مارچ کا تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 3.71 فیصد زیادہ رہا اور 2.73 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
پاکستان کا بیرونی شعبہ طویل عرصے سے دباؤ کا شکار ہے، جس کی بڑی وجہ درآمدی ایندھن پر انحصار اور محدود برآمدی بنیاد ہے۔ State Bank of Pakistan کے مطابق عالمی اجناس کی قیمتوں اور شرح مبادلہ میں اتار چڑھاؤ کا براہ راست اثر ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ پر پڑتا ہے۔
حکومت نے بیرونی خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں درآمدات پر پابندیاں، ایکسچینج ریٹ میں ایڈجسٹمنٹ اور برآمدات کے فروغ کے لیے سہولیات شامل ہیں، جو بین الاقوامی مالیاتی پروگرامز سے بھی منسلک ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ مارچ میں ماہانہ بہتری حوصلہ افزا ہے، تاہم مجموعی رجحان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ معیشت کو ساختی مسائل کا سامنا ہے۔ پائیدار برآمدی اضافہ ہی تجارتی خسارے کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔
پاکستان کی برآمدات کا زیادہ تر انحصار کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر ہے، جبکہ اعلیٰ ویلیو شعبوں میں خاطر خواہ پیش رفت ابھی باقی ہے۔ مستقبل میں درآمدات، خصوصاً توانائی سے متعلق اخراجات، تجارتی توازن کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے، جس سے Pakistan Bureau of Statistics کے آئندہ اعداد و شمار میں مزید سمت واضح ہوگی۔
UrduLead UrduLead