اداکار نے شادی، کامیابی اور فلاحی کاموں پر کھل کر بات کی

Humayun Saeed نے اپنی کامیابی کا کریڈٹ اپنی اہلیہ اور خاندان کو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پیشہ ورانہ اور ذاتی زندگی میں مضبوط سپورٹ سسٹم نے کلیدی کردار ادا کیا۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ان کی اہلیہ Samina Humayun Saeed نے ہمیشہ ان کی زندگی اور کیریئر کو سنبھالا اور سپورٹ کیا۔ ان کے مطابق گھر کے مالی معاملات اور دیگر ذمہ داریاں مکمل طور پر ان کی اہلیہ دیکھتی ہیں، جبکہ وہ خود ان امور سے لاعلم رہتے ہیں۔
انہوں نے اپنی سالی Sana Shahnawaz کو بھی خراج تحسین پیش کیا اور انہیں بیٹی جیسا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج وہ جس مقام پر ہیں، اس میں ان دونوں خواتین کی مسلسل حمایت شامل ہے۔
28 سالہ ازدواجی زندگی کے حوالے سے ہمایوں سعید نے کہا کہ کامیاب شادی کے لیے برداشت اور معافی بنیادی عناصر ہیں۔ ان کے مطابق میاں بیوی کو ایک دوسرے کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا چاہیے تاکہ رشتہ مضبوط رہے۔

ہمایوں سعید پاکستان کے مقبول ترین اداکاروں میں شمار ہوتے ہیں اور انہوں نے اداکاری کے ساتھ ساتھ پروڈکشن کے شعبے میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ وہ ملکی شوبز انڈسٹری کے طاقتور اسٹیک ہولڈرز میں شامل ہیں اور متعدد کامیاب منصوبوں کا حصہ رہ چکے ہیں۔
ان کی حالیہ فلم Love Guru نے باکس آفس پر تقریباً 85 کروڑ روپے کا بزنس کیا، جو پاکستانی فلم انڈسٹری میں بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق کورونا کے بعد مقامی سینما کی بحالی میں بڑی فلموں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
ٹیلی ویژن پر ان کا ڈرامہ Main Manto Nahi Hoon بھی غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکا ہے اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اربوں ویوز حاصل کر چکا ہے۔ اس رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری عالمی سطح پر بھی اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
اس سے قبل 2020 میں نشر ہونے والا ڈرامہ Mere Paas Tum Ho انہیں عالمی سطح پر شہرت دلانے کا باعث بنا، جسے پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین ڈراموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
انٹرویو کے دوران ہمایوں سعید نے اپنی فلاحی سرگرمیوں کے پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے 15 سال کی عمر سے کام شروع کیا اور ابتدائی زندگی میں مالی مشکلات کا سامنا کیا۔
انہوں نے ایک ذاتی واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے چھوٹے بھائی کے ایک حادثے کے باعث معذور ہونے سے خاندان شدید مشکلات کا شکار ہوا۔ اس دوران انہیں اسپتالوں کے چکر لگانے پڑے اور علاج کے اخراجات نے مالی دباؤ میں اضافہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت نے انہیں دکھ اور تکلیف کو قریب سے دیکھنے کا موقع دیا، جس نے ان کی سوچ کو بدل دیا۔ اپنے والدین کی صحت پر اس واقعے کے اثرات دیکھ کر وہ مزید متاثر ہوئے۔
ہمایوں سعید کے مطابق جب انہیں مالی استحکام حاصل ہوا تو انہوں نے دوسروں کی مدد کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھا۔ وہ مختلف فلاحی کاموں میں حصہ لیتے ہیں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں۔
تاہم انہوں نے کہا کہ وہ باقاعدہ این جی او قائم کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ وہ کسی سے چندہ مانگنے میں آسانی محسوس نہیں کرتے۔ اس کے بجائے وہ پہلے سے کام کرنے والی تنظیموں کو مالی مدد فراہم کرنا ترجیح دیتے ہیں۔
پاکستان میں فلاحی سرگرمیوں کا رجحان مسلسل بڑھ رہا ہے اور نجی سطح پر عطیات معاشرتی بہبود میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق صحت اور تعلیم کے شعبوں میں نجی امداد نے کئی خلا کو پُر کیا ہے۔
ہمایوں سعید کے خیالات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کامیابی کے ساتھ سماجی ذمہ داری بھی اہم ہے۔ بطور نمایاں شخصیت، وہ نہ صرف انڈسٹری پر اثر انداز ہو رہے ہیں بلکہ فلاحی کاموں کے ذریعے معاشرے میں مثبت کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔
UrduLead UrduLead