جمعرات , اپریل 2 2026

وزن کم کرنے والی ادویات کا بڑھتا رجحان

GLP-1 گولیاں مؤثر مگر خطرات کے باعث احتیاط ضروری قرار

دنیا بھر سمیت پاکستان میں وزن کم کرنے والی ادویات کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں Semaglutide اور Tirzepatide جیسی جدید ادویات نے موٹاپے کے علاج میں نمایاں توجہ حاصل کرلی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق Ozempic، Wegovy، Zepbound اور Mounjaro جیسی ادویات بھوک کم کرنے، معدے کے خالی ہونے کے عمل کو سست کرنے اور میٹابولزم بہتر بنانے کے ذریعے وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ Orlistat جیسی پرانی دوا چربی کے جذب کو روک کر اثر انداز ہوتی ہے۔

کلینیکل ٹرائلز کے مطابق ان ادویات کے استعمال سے 5 سے 22 فیصد تک وزن میں کمی ممکن ہے، جو صرف ڈائٹ اور ورزش کے مقابلے میں زیادہ مؤثر سمجھی جاتی ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق Wegovy اور Zepbound استعمال کرنے والے افراد میں اوسطاً 15 سے 22 فیصد وزن کم ہوا، جو موٹاپے کے علاج میں اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے۔

ماہرین کے مطابق ان ادویات کے فوائد صرف وزن میں کمی تک محدود نہیں بلکہ یہ ذیابیطس کنٹرول کرنے، دل کے امراض کے خطرات کم کرنے اور بلڈ پریشر بہتر بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ World Health Organization نے بھی رہنمائی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان ادویات کو متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔

تاہم ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ یہ ادویات ہر فرد کے لیے محفوظ نہیں۔ عام مضر اثرات میں متلی، الٹی، اسہال، قبض، سر درد، تھکاوٹ اور چکر آنا شامل ہیں، جبکہ بعض کیسز میں پٹھوں کی کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ تحقیق کے مطابق وزن میں کمی کا تقریباً 40 فیصد حصہ پٹھوں سے بھی ہو سکتا ہے، جو طویل مدت میں صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

مزید سنگین خطرات میں گل بلیڈر کے مسائل، پینکریاٹائٹس اور تھائرائیڈ ٹیومر کا خدشہ شامل ہے، اگرچہ یہ اثرات ہر مریض میں نہیں پائے جاتے۔ طبی ماہرین کے مطابق اگر یہ ادویات اچانک بند کر دی جائیں تو وزن تیزی سے واپس بڑھ سکتا ہے، جو علاج کے تسلسل کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی ریگولیٹری ادارے Food and Drug Administration نے جعلی GLP-1 ادویات کے حوالے سے وارننگ جاری کی ہے، کیونکہ آن لائن غیر مصدقہ مصنوعات صارفین کی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر معیاری ادویات نہ صرف غیر مؤثر ہوتی ہیں بلکہ نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق کچھ افراد کو ان ادویات سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، جن میں حاملہ خواتین، تھائرائیڈ کینسر کی تاریخ رکھنے والے مریض اور شدید معدے کے امراض میں مبتلا افراد شامل ہیں۔ ایسے کیسز میں متبادل طریقہ علاج تجویز کیا جاتا ہے۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ وزن کم کرنے والی ادویات کا استعمال صرف ڈاکٹر کے مشورے سے کیا جانا چاہیے۔ علاج شروع کرنے سے قبل مکمل طبی معائنہ اور خون کے ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔

صحت مند طرز زندگی کو اب بھی بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ ماہرین کے مطابق کم کیلوری والی متوازن غذا، روزانہ 30 سے 45 منٹ ورزش، مناسب پانی کا استعمال اور چینی و تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز وزن کم کرنے کے محفوظ اور مؤثر طریقے ہیں۔

عالمی سطح پر موٹاپے کی شرح میں اضافہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں اربوں افراد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں، جس کے باعث دل، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔

ایسے میں جدید ادویات امید ضرور فراہم کرتی ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کوئی “شارٹ کٹ” نہیں بلکہ ایک طبی علاج ہے جسے احتیاط، نگرانی اور صحت مند عادات کے ساتھ اپنانا ضروری ہے۔ مستقبل میں بھی موٹاپے کے علاج میں تحقیق جاری ہے، تاہم فی الحال متوازن غذا اور ورزش کو ہی سب سے محفوظ اور پائیدار حل قرار دیا جا رہا ہے۔

نوٹ: یہ ایک معلوماتی مضمون ہے ، اپنی کسی بھی بیماری کی تشخیص اور اس کے علاج کےلیے ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایران کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اشارہ

چند ہفتے اہم، فوجی دباؤ بڑھانے کی دھمکی امریکی صدر Donald Trump نے Iran کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے