میٹرک 2026 امتحانات سے قبل غیر مصدقہ مواد کا سیلاب

پاکستان میں میٹرک 2026 کے سالانہ امتحانات قریب آتے ہی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گیس پیپرز کی بھرمار دیکھنے میں آرہی ہے، جہاں طلبہ کو کم محنت میں زیادہ نمبر حاصل کرنے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔
لاہور سمیت ملک بھر میں فیس بک، انساگرام، واٹس ایپ گروپس اور یوٹیوب پر مختلف اساتذہ، کوچنگ سینٹرز اور اکیڈمیز مضامین کے حساب سے گیس پیپرز شیئر کررہے ہیں۔ ان میں انگریزی، فزکس، کیمسٹری، ریاضی، مطالعہ پاکستان اور بیالوجی جیسے اہم مضامین شامل ہیں، جن کے لیے “90 فیصد پیپر یہی سے آئے گا” جیسے دعوے عام ہیں۔
کئی پلیٹ فارمز پر مفت پی ڈی ایف فائلز اور واٹس ایپ لنکس کے ذریعے مواد فراہم کیا جارہا ہے، جبکہ بعض ادارے “میگا پیکجز” اور “ہائی ٹارگٹ گیس پیپرز” کے نام پر معمولی فیس بھی وصول کررہے ہیں۔ یہ مواد خاص طور پر پنجاب کے تعلیمی بورڈز جیسے لاہور، فیصل آباد، ملتان اور گوجرانوالہ کے طلبہ کو ہدف بنا کر تیار کیا جارہا ہے۔

یہ گیس پیپرز عموماً گزشتہ امتحانی پرچوں، پیئرنگ اسکیمز اور بار بار پوچھے جانے والے سوالات کو مدنظر رکھ کر مرتب کیے جاتے ہیں۔ طلبہ کی بڑی تعداد انہیں آخری وقت کی تیاری، خاص طور پر ایم سی کیوز اور مختصر سوالات کے لیے مفید سمجھتی ہے۔
تاہم ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ گیس پیپرز پر بڑھتا ہوا انحصار تعلیمی معیار کو متاثر کررہا ہے۔ ان کے مطابق طلبہ مکمل نصاب کا مطالعہ کرنے کے بجائے شارٹ کٹس تلاش کرتے ہیں، جس سے ان کی بنیادی سمجھ اور تجزیاتی صلاحیت کمزور ہوتی ہے۔
پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے اس رجحان کا نوٹس لیتے ہوئے سوشل میڈیا پر گیس پیپرز، پیئرنگ اسکیمز اور پرانے پرچوں کی شیئرنگ پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکام کے مطابق اسکولوں کو جاری کردہ مراسلوں میں اساتذہ اور انتظامیہ کو ایسے گروپس چلانے سے روک دیا گیا ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں سائبر قوانین کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے، جس میں جرمانے اور قید کی سزائیں بھی شامل ہوسکتی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد امتحانی نظام کی شفافیت کو برقرار رکھنا اور غیر مصدقہ مواد کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
اس کے باوجود سوشل میڈیا پر گیس پیپرز کی ترسیل جاری ہے، جس کی بڑی وجہ طلبہ کی جانب سے ان مواد کی مسلسل تلاش اور مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے زیادہ ویوز اور فالوورز کا حصول ہے۔ کئی اکیڈمیز اس رجحان کو اپنی تشہیر کے لیے بھی استعمال کررہی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض گیس پیپرز محض پرانے پرچوں کا مجموعہ ہوتے ہیں، جن کی درستگی مشکوک ہوتی ہے۔ اس کے برعکس کچھ طلبہ کا تجربہ ہے کہ ماضی میں ایسے مواد سے خاص طور پر معروضی حصے میں مدد ملی، جس سے اس رجحان کو مزید تقویت ملتی ہے۔
پاکستان میں میٹرک امتحانات ہر سال لاکھوں طلبہ دیتے ہیں، جہاں مقابلہ سخت ہوتا جارہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پنجاب میں ہی ہر سال 20 لاکھ سے زائد طلبہ میٹرک امتحانات میں شرکت کرتے ہیں، جس سے امتحانی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔
ماہرین تعلیم تجویز کرتے ہیں کہ طلبہ کو اپنی تیاری کے لیے درسی کتب اور سرکاری نصاب کو ترجیح دینی چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ مستند بورڈ پیپرز کی مشق کو بنیادی حکمت عملی کا حصہ بنایا جائے، جبکہ گیس پیپرز کو صرف معاون مواد کے طور پر استعمال کیا جائے۔
امتحانات رمضان اور عید کے بعد متوقع ہونے کے باعث طلبہ پر دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں والدین اور اساتذہ کا کردار اہم ہوجاتا ہے، جو طلبہ کو درست رہنمائی فراہم کرسکتے ہیں تاکہ وہ غیر مصدقہ دعوؤں کے بجائے مؤثر اور سلیبس پر مبنی تیاری کریں۔
آئندہ ہفتوں میں یہ دیکھنا باقی ہے کہ تعلیمی بورڈز کی سختی اس رجحان کو کس حد تک کم کرسکے گی، تاہم فی الحال سوشل میڈیا پر “2026 گیس پیپر” کے پیغامات طلبہ کی توجہ اپنی جانب مبذول کیے ہوئے ہیں، جو میٹرک 2026 کے امتحانات کی تیاری میں مصروف ہیں۔
UrduLead UrduLead