منگل , مارچ 17 2026

بورڈز کی گیس پیپر شیئرنگ پر پابندی

میٹرک امتحانات سے قبل فیصل آباد بورڈ نے سوشل میڈیا پر گیس پیپرز اور پیئرنگ اسکیمز کی شیئرنگ جرم قرار دے دی، خلاف ورزی پر قید اور جرمانے کی وارننگ جاری کردی گئی۔

فیصل آباد بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن نے میٹرک کے سالانہ امتحانات سے قبل سوشل میڈیا پر گیس پیپرز، پیئرنگ اسکیمز اور سوالیہ پرچوں کی شیئرنگ پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے اور خبردار کیا ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے گی۔ حکام کے مطابق میٹرک کے امتحانات 27 مارچ سے شروع ہوں گے اور امتحانی عمل کی شفافیت یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

بورڈ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی امتحانی مواد کو واٹس ایپ، فیس بک، ایکس یا دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کرنا قابل سزا جرم تصور ہوگا۔ اعلامیے کے مطابق خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا اور انہیں تین سال تک قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ یہ پابندی امتحان سے قبل، دوران امتحان اور امتحان کے فوراً بعد سوالیہ پرچوں کی ترسیل پر بھی لاگو ہوگی۔

تعلیمی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کی مشترکہ پالیسی کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ نقل، پرچہ لیک ہونے اور غیر قانونی تیاری کے رجحان کو روکا جا سکے۔ حالیہ ہفتوں میں مختلف بورڈز نے اسی نوعیت کے نوٹیفکیشن جاری کیے ہیں جن میں واضح کیا گیا ہے کہ امتحانی مواد کی قبل از وقت فراہمی امتحانی نظام کے خلاف سنگین جرم ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ کارروائی پنجاب یونیورسٹیز اور بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن مال پریکٹسز ایکٹ 1950 کے تحت کی جاتی ہے، جس میں امتحانی پرچے افشا کرنے، امتحان میں مدد دینے یا امتحانی ریکارڈ سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر قید اور جرمانے کی سزا مقرر ہے۔ قانون کے مطابق جرم ثابت ہونے پر تین سال تک قید اور پچاس ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے استعمال کے باعث گیس پیپرز اور مبینہ پیئرنگ اسکیمز کے نام پر غلط معلومات پھیلانے کا رجحان بڑھا ہے، جس سے طلبہ میں بے یقینی پیدا ہوتی ہے اور امتحانی نظام متاثر ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے امتحانی مراکز میں موبائل فون کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے اور نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔

پنجاب کے تعلیمی حکام کے مطابق گزشتہ سال امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف مہم کے دوران کئی گروہوں کے خلاف کارروائی کی گئی تھی جو طلبہ کو پیسے لے کر پرچے فراہم کرنے یا حل کروانے میں ملوث تھے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سخت سزاؤں کا مقصد میرٹ کو برقرار رکھنا اور سرکاری امتحانات پر اعتماد بحال کرنا ہے۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ میٹرک کے امتحانات پاکستان کے تعلیمی نظام میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ انہی نتائج کی بنیاد پر کالج داخلوں کا فیصلہ ہوتا ہے۔ پنجاب میں ہر سال لاکھوں طلبہ میٹرک کے امتحانات دیتے ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی بے ضابطگی پورے نظام پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں بورڈز کی جانب سے سخت اقدامات کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے۔

حکام نے طلبہ، اساتذہ اور والدین کو ہدایت کی ہے کہ غیر مصدقہ گیس پیپرز یا پیئرنگ اسکیمز پر انحصار نہ کریں اور صرف بورڈ کے جاری کردہ نصاب اور ماڈل پیپرز کے مطابق تیاری کریں۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ امتحانی نظام کی شفافیت برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی، جبکہ فیصل آباد بورڈ کے تحت میٹرک امتحانات 27 مارچ سے مقررہ شیڈول کے مطابق شروع ہوں گے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

سینیٹ کمیٹی اجلاس خدشہ: ایل این جی قلت کا سامنا

سینیٹ کمیٹی نے ملک میں آئندہ ہفتوں میں ایل این جی کی کمی کا خدشہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے