امریکا۔ایران معاہدے کے بعد منڈیاں پُرامید

امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے معاہدے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ سرمایہ کاروں نے خطے میں کشیدگی کم ہونے اور تیل کی ترسیل بحال ہونے کے امکانات کا خیرمقدم کیا ہے۔
پیر کی صبح ایشیائی مارکیٹوں میں کاروبار کے آغاز پر برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 3.95 فیصد کمی کے بعد 83.88 ڈالر فی بیرل تک گر گئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 4.62 فیصد کمی کے ساتھ 80.96 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
تیل کی قیمتیں مئی کے وسط میں جنگی خدشات کے باعث بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں، تاہم حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبروں کے بعد مسلسل دباؤ کا شکار تھیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کی شب اعلان کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے اور جمعے کو باضابطہ دستخط کے بعد آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اہم بحری راستے کے کھلنے سے عالمی توانائی منڈیوں کو استحکام ملے گا۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی تصدیق کی کہ مفاہمتی یادداشت کا متن حتمی شکل اختیار کر چکا ہے اور جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں معاہدے پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔
پاکستان اور قطر، جو اس معاہدے میں اہم ثالثی کردار ادا کر رہے تھے، نے بھی فریقین کے درمیان اتفاقِ رائے کی تصدیق کی ہے۔
اگرچہ معاہدے کی تمام تفصیلات سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق مجوزہ معاہدے میں لبنان میں جنگ کے خاتمے، ایرانی تیل پر عائد پابندیوں کی معطلی، ایران کے منجمد 24 ارب ڈالر کے اثاثوں کی مرحلہ وار رہائی اور ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے 60 روزہ دورانیے میں ایران کو خام تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت مل جائے گی، جبکہ اسی عرصے میں جوہری پروگرام سے متعلق حتمی مذاکرات بھی جاری رہیں گے۔
معاہدے سے قبل صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہو گئی تھی جب اسرائیل نے جنوبی بیروت میں فضائی حملہ کیا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اس کارروائی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا اور تمام فریقین کو مزید فوجی کارروائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔
معاشی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی تیل کی سپلائی چین کے لیے انتہائی اہم پیش رفت ہے کیونکہ دنیا کے ایک بڑے حصے کا خام تیل اسی راستے سے گزرتا ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹوں کا مکمل اعتماد اس وقت بحال ہوگا جب بحری راستے کو بارودی سرنگوں سے پاک کر دیا جائے، معاہدے پر دستخط مکمل ہو جائیں اور جہاز رانی معمول کے مطابق بحال ہو جائے۔
تین ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ اور غیر یقینی صورتحال کے بعد عالمی منڈیاں اب امن اور معمول کی معاشی سرگرمیوں کی واپسی کی توقعات کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر رہی ہیں، تاہم معاہدے کے عملی نفاذ اور اس کے پائیدار ہونے پر ابھی بھی کئی سوالات موجود ہیں۔
UrduLead UrduLead