جنگ بندی پر پیش رفت، معاہدے پر آئندہ جمعے کو دستخط کیے جائیں گے

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک معاہدے پر آئندہ جمعے کو دستخط کیے جائیں گے، جبکہ تہران نے بھی اشارہ دیا ہے کہ 100 روز سے زائد جاری رہنے والی جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان پیر کی صبح متوقع ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر سب سے پہلے اس پیش رفت کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے مستقل خاتمے پر اتفاق ہو گیا ہے، جس میں لبنان سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ “اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل ہو چکا ہے”۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا اور امریکی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر دی جائے گی۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس پیش رفت کو مشرق وسطیٰ کے لیے “نئے دور” کا آغاز قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی سفارت کاری نے فریقین کو مذاکرات کی میز تک لانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور کاظم غریب آبادی نے ایرانی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جنگ اور فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان جلد متوقع ہے۔ ان کے مطابق حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع کیا جائے گا، بشرطیکہ امریکا اپنے وعدوں پر عمل درآمد کرے۔
ایرانی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق مجوزہ معاہدے میں فوری اور مستقل جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار واپسی اور تیل کی فروخت سے متعلق بعض پابندیوں میں نرمی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم ان تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں مزاحمتی گروپوں کی حمایت جیسے حساس معاملات کو موجودہ مذاکراتی ایجنڈے سے خارج رکھا گیا ہے تاکہ ابتدائی معاہدے تک پہنچنے میں آسانی ہو۔
پاکستان اور قطر نے اس پیش رفت میں اہم ثالثی کردار ادا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ رواں ہفتے تکنیکی اور سفارتی سطح پر متعدد ملاقاتیں ہوں گی تاکہ حتمی معاہدے اور دستخطی تقریب کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے قطر، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت کی کوششوں کو بھی سراہا۔
قطر کی وزارت خارجہ نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کو خطے میں پائیدار امن اور اقتصادی استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر تمام امور طے پا گئے تو معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہو سکتی ہے۔ تاہم معاہدے کی حتمی شرائط اور اس کے مکمل متن کے بارے میں تاحال سرکاری سطح پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
UrduLead UrduLead