
آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران امریکا نے خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے ایک خفیہ بحری نیٹ ورک قائم کیا، جس میں وہی طریقہ کار استعمال کیا گیا جو ماضی میں ایران پابندیوں سے بچنے کے لیے اختیار کرتا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج کی نگرانی میں “شپ ٹو شپ” تیل منتقلی کا ایک وسیع آپریشن چلایا گیا، جس کے تحت خلیج فارس سے خام تیل لے جانے والے چھوٹے ٹینکر مخصوص مقامات پر پہنچ کر اپنا تیل بڑے بحری جہازوں میں منتقل کرتے رہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ آپریشن مئی 2026 کے اوائل میں شروع ہوا اور اس میں کم از کم 92 بحری جہاز شامل تھے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور شپنگ ڈیٹا کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقے فجیرہ اور عمان کی بندرگاہ صحار کے قریب خفیہ تیل منتقلی کے مراکز قائم کیے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق بعض بحری جہازوں نے اپنی شناخت ظاہر کرنے والے ٹرانسپونڈر سسٹمز بند رکھے جبکہ رات کے اوقات میں محدود روشنی کے ساتھ سفر کیا۔ یہ وہی طریقہ کار ہے جو ماضی میں ایرانی “شیڈو فلیٹ” سے منسوب کیا جاتا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے ڈرونز، ہیلی کاپٹروں اور دیگر نگرانی کے ذرائع کے ذریعے ان بحری قافلوں کی رہنمائی اور حفاظت کی تاکہ تیل کی ترسیل بلا تعطل جاری رکھی جا سکے۔
رائٹرز کے مطابق اس خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل عالمی منڈیوں تک پہنچایا گیا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث پیدا ہونے والے ممکنہ توانائی بحران اور تیل کی شدید قلت کو روکنا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حکمت عملی نے خلیجی ممالک کی تیل برآمدات کو جاری رکھنے میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں کے مزید اضافے کے خدشات کو بھی محدود رکھا۔
واضح رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے دوران امریکا تیل کی ترسیل جاری رکھنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کر رہا تھا اور بعد میں ایران کو اس سرگرمی کا علم ہو گیا تھا۔
رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد خطے میں توانائی کی سلامتی، بحری نقل و حمل اور امریکی حکمت عملی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے، جبکہ اس معاملے پر امریکا اور ایران کی جانب سے باضابطہ ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead