منگل , مارچ 17 2026

نیا بحری راستہ، ایران کی منظوری لازم

آبنائے ہرمز میں حساس سمندری راہداری سامنے آنے کے بعد جہازوں کے لیے ایرانی منظوری لازمی قرار، عالمی شپنگ اور انشورنس سیکٹر میں تشویش بڑھ گئی۔

آبنائے ہرمز میں ایک نیا حساس بحری راستہ سامنے آیا ہے جہاں سے گزرنے والے جہازوں کے لیے ایرانی حکام کی منظوری لازمی قرار دی جا رہی ہے، جس سے عالمی تیل سپلائی اور شپنگ سکیورٹی کے بارے میں خدشات بڑھ گئے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ کے مطابق یہ راستہ غیر رسمی میرین ٹریفک کنٹرول نظام کے تحت استعمال میں آ رہا ہے اور اس کا اطلاق عملی طور پر شروع ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ نیا راستہ جزیرہ لارک اور قشم جزیرے کے درمیان واقع ہے، جو آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس حصے میں شمار ہوتا ہے۔ اس علاقے سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی ساحلی حکام کے ساتھ رابطہ رکھنا پڑتا ہے تاکہ محفوظ گزرگاہ کی اجازت حاصل کی جا سکے۔ پاکستانی آئل ٹینکرز نے حالیہ دنوں میں ایرانی ساحل کے قریب اسی محفوظ راستے سے گزر کر اس نظام کو علامتی اہمیت دی، جس کے بعد یہ راستہ خطے میں زیر بحث آ گیا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں۔ اس وجہ سے اس آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور سپلائی چین پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

حالیہ کشیدگی کے بعد خلیجی درآمد کنندگان متبادل راستوں کی تلاش میں مصروف ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کے کئی رکن ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت، اپنی برآمدات کے لیے متبادل پائپ لائنوں اور بندرگاہوں کے استعمال کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق مکمل متبادل فی الحال دستیاب نہیں۔

شپنگ انڈسٹری سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے غیر رسمی کنٹرول نظام کے تحت جہازوں کو تہران سے سیاسی گرین سگنل حاصل کرنا پڑ سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں سکیورٹی خدشات بڑھ جائیں۔ بین الاقوامی بیمہ کمپنیوں اور بینکوں نے اس صورتحال پر تشویش ظاہر کی ہے کیونکہ بغیر منظوری کے سفر کرنے والے جہازوں کی انشورنس اور مالیاتی کلیئرنس مشکل ہو سکتی ہے۔ میرین انشورنس مارکیٹ کے ماہرین کے مطابق خطرے کے باعث پریمیم میں اضافہ بھی ممکن ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں ایران اور مغربی ممالک کے درمیان کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں جہازوں کی پکڑ دھکڑ اور حملوں کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے بعد کئی بار عالمی سطح پر اس راستے کی سکیورٹی پر سوال اٹھے۔ 2019 میں بھی خلیج عمان میں آئل ٹینکر حملوں کے بعد شپنگ کمپنیوں نے اضافی سکیورٹی اقدامات اختیار کیے تھے، جبکہ برطانیہ اور امریکا نے بحری نگرانی بڑھا دی تھی۔

تازہ پیش رفت کے بعد بھارت، ترکی اور دیگر کئی ممالک نے ایران سے محفوظ راہداری کے لیے رابطے کیے ہیں تاکہ ان کے تجارتی جہاز بغیر رکاوٹ سفر کر سکیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بعض ممالک ایران کے ساتھ غیر رسمی رابطوں کے ذریعے اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ خطے میں کشیدگی کے باوجود توانائی کی ترسیل جاری رہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حمل ایرانی منظوری سے مشروط ہو گئی تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایشیا، یورپ اور عالمی تیل منڈی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ عالمی معیشت اب بھی بڑی حد تک آبنائے ہرمز پر انحصار کرتی ہے اور کسی بھی نئی بحری پابندی سے سپلائی چین اور توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ سکتا ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

سینیٹ کمیٹی اجلاس خدشہ: ایل این جی قلت کا سامنا

سینیٹ کمیٹی نے ملک میں آئندہ ہفتوں میں ایل این جی کی کمی کا خدشہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے