منگل , مارچ 17 2026

سینیٹ کمیٹی اجلاس خدشہ: ایل این جی قلت کا سامنا

سینیٹ کمیٹی نے ملک میں آئندہ ہفتوں میں ایل این جی کی کمی کا خدشہ ظاہر کیا، حکومت نے ایندھن کی موجودہ فراہمی کو مستحکم قرار دیا

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے حکام کی بریفنگ میں خبردار کیا کہ ملک کو آئندہ ہفتوں میں ایل این جی کی شدید قلت کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ 14 اپریل کے بعد سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے پاور سیکٹر اور صنعتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ وزارت پیٹرولیم کے حکام نے بتایا کہ مارچ میں متوقع 8 کارگو میں سے صرف 2 پہنچے اور اپریل میں 6 کارگو کی دستیابی غیر یقینی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کے زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں حکام نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ پیٹرول، ڈیزل، ہوابازی کے ایندھن اور ایل پی جی کے ذخائر اطمینان بخش ہیں اور سپلائی چین معمول کے مطابق کام کر رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور عالمی منڈی میں قیمتوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جائے۔

وزیر توانائی اویس لغاری نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ مقامی ذرائع سے بجلی پیداوار میں اضافہ ہونے کے باعث ایل این جی کی ممکنہ رکاوٹ کے اثرات محدود رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں تقریباً 74 فیصد بجلی مقامی ذرائع سے پیدا ہو رہی ہے اور حکومت کا ہدف 2034 تک اسے 96 فیصد سے زیادہ تک پہنچانا ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو سکے۔

قائمہ کمیٹی نے بریفنگ میں بتایا کہ گیس کی کمی کے باعث سوئی سدرن گیس کمپنی نے ایک فرٹیلائزر پلانٹ کو 50 فیصد کم گیس فراہم کی جبکہ پاور سیکٹر کو بھی گیس کی مقدار میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ترجیح گھریلو صارفین کو دی جائے گی، جس کے باعث اپریل میں پاور سیکٹر کی مکمل ضرورت پوری نہیں ہو سکے گی۔ متبادل ایندھن استعمال کرنے سے بجلی کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوگا اور صارفین پر اثر پڑے گا۔

توانائی کے ماہرین نے کہا کہ اگر بروقت کارگو نہ پہنچیں تو نہ صرف گیس بلکہ بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوگی اور لوڈشیڈنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ حکام نے بتایا کہ حکومت آذربائیجان سے ایل این جی خریدنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ عارضی کمی کو پورا کیا جا سکے۔

حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ گیس کی قلت کے باعث سوئی سدرن گیس کمپنی نے ایک فرٹیلائزر پلانٹ کو 50 فیصد گیس کم فراہم کی ہے جبکہ پاور سیکٹر کو دی جانے والی گیس میں بھی نمایاں کمی کی گئی ہے۔ پہلے بجلی گھروں کو تقریباً 300 ایم ایم سی ایف ڈی گیس فراہم کی جا رہی تھی جو اب کم ہو کر تقریباً 130 ایم ایم سی ایف ڈی رہ گئی ہے۔

سیکرٹری پیٹرولیم نے بتایا کہ موجودہ حالات میں ترجیح گھریلو صارفین کو گیس فراہم کرنا ہے، اس لیے اپریل کے دوران پاور سیکٹر کی مکمل ضرورت پوری کرنا ممکن نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ بجلی کی پیداوار کے لیے متبادل ایندھن استعمال کرنا پڑے گا جس سے بجلی کی لاگت میں اضافہ ہوگا اور اس کا اثر صارفین پر پڑے گا۔

توانائی شعبے کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی گیس پیداوار گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل کم ہو رہی ہے جبکہ طلب میں اضافہ جاری ہے، جس کے باعث ملک کو ہر سال بڑی مقدار میں ایل این جی درآمد کرنا پڑتی ہے۔ پاکستان نے قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت ایل این جی خریداری کا نظام قائم کیا تھا تاکہ قیمتوں میں استحکام رہے، تاہم اس کے باوجود سپلائی میں وقفے وقفے سے خلل آتا رہا ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ ایل این جی کی کمی پوری کرنے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کا آپشن موجود ہے لیکن اس کی قیمت زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق قطر سے طویل مدتی معاہدے کے تحت ایل این جی تقریباً 9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو میں ملتی ہے جبکہ اسپاٹ مارکیٹ میں یہی قیمت 24 ڈالر تک جا سکتی ہے، جس سے بجلی کی پیداواری لاگت بڑھ جائے گی اور پاور ٹیرف پر دباؤ آئے گا۔

حکام نے یہ بھی بتایا کہ حکومت آذربائیجان کی کمپنی سے ایل این جی خریدنے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ عارضی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اگر بروقت کارگو نہ ملے تو گیس کی قلت کے ساتھ ساتھ بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوسکتی ہے جس سے لوڈشیڈنگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

قائمہ کمیٹی کے ارکان نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال سردیوں اور گرمیوں میں گیس بحران سامنے آتا ہے جو منصوبہ بندی کی کمزوری ظاہر کرتا ہے۔ کمیٹی نے وزارت پیٹرولیم کو ہدایت کی کہ آئندہ اجلاس میں مکمل سپلائی پلان، درآمدی معاہدوں اور متبادل توانائی کے انتظامات کی تفصیل پیش کی جائے تاکہ ایل این جی بحران پر قابو پایا جا سکے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایل پی جی قیمتیں: اوگرا کنٹرول میں ناکام

پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد ایل پی جی 350 روپے فی کلو تک، اوگرا نرخ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے