
حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اجلاس میں عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے تناظر میں صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔
حکومتِ پاکستان نے کہا ہے کہ عالمی توانائی منڈی میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باوجود ملک میں ایندھن کی فراہمی مستحکم ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں، یہ بات ہفتہ کو ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس کے بعد بتائی گئی جس میں پیٹرولیم ذخائر، درآمدی منصوبوں اور ریفائنری آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے قائم کمیٹی کا اجلاس ورچوئل طریقے سے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا، اجلاس میں حکام نے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کے موجودہ ذخائر، راستے میں موجود کارگو اور آئندہ ہفتوں کے لیے طے شدہ درآمدی شیڈول پر بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور عالمی منڈی میں قیمتوں کی نقل و حرکت پر مسلسل نظر رکھی جائے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل، ہوابازی کے ایندھن اور ایل پی جی کے ذخائر اطمینان بخش ہیں اور سپلائی چین معمول کے مطابق کام کر رہی ہے، آئل ریفائنریوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور متعلقہ سرکاری اداروں کے درمیان رابطہ مزید مضبوط کیا گیا ہے تاکہ ملک بھر میں مصنوعات کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
یہ جائزہ ایسے وقت میں لیا گیا جب عالمی خام تیل کی منڈیوں میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث شدید اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے، جس سے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے خدشات بڑھ گئے ہیں، اجلاس میں بین الاقوامی قیمتوں کے رجحانات، ریفائنڈ مصنوعات کی مارکیٹ اور ممکنہ بیرونی خطرات کا جائزہ لیا گیا جو ملکی توانائی لاگت اور مہنگائی پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔
حکام نے خام تیل کی درآمد، ریفائنریوں کی پیداوار اور سمندری ترسیل سے متعلق انتظامات کا بھی جائزہ لیا اور بتایا کہ کارگو کی بروقت آمد، ریفائنریوں کی مکمل صلاحیت پر آپریشن اور ذخیرہ گاہوں کی نگرانی کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں، کمیٹی نے ہدایت کی کہ غیر یقینی حالات میں سپلائی میں تعطل سے بچنے کے لیے شیڈول اور اسٹاک کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
اجلاس میں ایندھن کے استعمال میں کفایت اور طلب کے بہتر انتظام سے متعلق تجاویز پر بھی غور کیا گیا تاکہ عالمی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں درآمدی بل پر دباؤ کم کیا جا سکے، سرکاری اداروں میں ایندھن کے مؤثر استعمال اور ذمہ دارانہ کھپت کو معیشت کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
کمیٹی کو پیٹرولیم سپلائی چین کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات پر بھی بریفنگ دی گئی، جس میں ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کی تیاری شامل ہے جو ذخائر، ڈپو اور ریٹیل سطح پر دستیابی کی صورت حال کو حقیقی وقت میں مانیٹر کرنے میں مدد دے گا، حکام کے مطابق اس نظام سے بروقت فیصلے کرنے میں آسانی ہوگی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور عوام پر بوجھ کم سے کم رکھنا ہے، انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود پیشگی منصوبہ بندی اور اداروں کے درمیان قریبی رابطے کے باعث سپلائی مستحکم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر عالمی تیل کی قیمتوں، ملکی ذخائر اور سپلائی چین کی صورت حال کا جائزہ لیتی رہے گی اور ضرورت پڑنے پر فوری پالیسی فیصلے کیے جائیں گے تاکہ توانائی کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور موجودہ عالمی حالات میں ملکی منڈی کو مستحکم رکھا جا سکے۔
UrduLead UrduLead