منگل , مارچ 17 2026

ایل پی جی قیمتیں: اوگرا کنٹرول میں ناکام

پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد ایل پی جی 350 روپے فی کلو تک، اوگرا نرخ نافذ نہ کراسکی

پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہوگیا ہے اور کئی علاقوں میں یہ گیس سرکاری نرخ سے کہیں زیادہ پر فروخت ہورہی ہے، جبکہ اوگرا ملک بھر میں یکساں قیمت نافذ کرانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے جس سے صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں ایل پی جی 350 روپے فی کلو تک فروخت کی جارہی ہے جبکہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مارچ کے لیے فی کلو قیمت تقریباً 219 روپے 68 پیسے مقرر کی تھی۔ مقررہ نرخ کے باوجود مارکیٹ میں زائد قیمت وصول کی جارہی ہے جس پر صارفین نے شکایات میں اضافہ کردیا ہے۔ توانائی ماہرین کے مطابق اوگرا ہر ماہ زیادہ سے زیادہ صارف قیمت مقرر کرتی ہے مگر عملدرآمد صوبائی انتظامیہ اور ضلعی حکام کے ذریعے ہونا ہوتا ہے، جہاں نگرانی کا نظام کمزور ہونے کے باعث مختلف شہروں میں قیمتوں میں بڑا فرق دیکھا جاتا ہے۔

کوئٹہ میں بھی پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کے بعد ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ مقامی ڈیلرز کے مطابق شہر میں فی کلو قیمت میں تقریباً 70 روپے اضافہ ہوا اور نرخ 260 روپے سے بڑھ کر 330 روپے تک پہنچ گئے۔ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں سپلائی محدود ہونے کے باعث قیمتیں مزید زیادہ ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ بعض علاقوں میں سرکاری نرخ پر ایل پی جی دستیاب ہی نہیں۔

حالیہ دنوں میں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمت میں 55، 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا تھا جس کے بعد توانائی کی مجموعی لاگت بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان اپنی ایل پی جی کی طلب کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے اور قیمتوں کا تعین سعودی کنٹریکٹ پرائس، روپے کی قدر اور عالمی تیل مارکیٹ سے منسلک ہوتا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث حالیہ ہفتوں میں درآمدی لاگت میں اضافہ ہوا ہے جس کا اثر مقامی مارکیٹ پر پڑا ہے۔

توانائی شعبے کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سالانہ ایل پی جی کھپت کا بڑا حصہ گھریلو اور کمرشل صارفین استعمال کرتے ہیں جبکہ دیہی اور پہاڑی علاقوں میں یہ گیس بنیادی ایندھن سمجھی جاتی ہے۔ نیشنل انرجی اعداد و شمار کے مطابق گیس کی قلت کے بعد گزشتہ چند برسوں میں ایل پی جی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا، تاہم قیمتوں کے کنٹرول اور سپلائی مانیٹرنگ کا نظام مؤثر نہ ہونے کے باعث ہر قیمت اضافے کے بعد من مانی وصولی کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔

پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد بلوچستان کے مختلف علاقوں میں غیرقانونی ایرانی پیٹرول کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کی جائیں گی، تاہم مقامی تاجر کہتے ہیں کہ سپلائی میں کمی، سرحدی صورتحال اور خطے میں کشیدگی کے باعث ایل پی جی کی دستیابی متاثر ہوئی ہے جس سے قیمتیں تیزی سے بڑھی ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق اگر عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہا اور اوگرا مقررہ نرخ پر عملدرآمد یقینی نہ بناسکی تو ایل پی جی، پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتیں مہنگائی کو مزید اوپر لے جاسکتی ہیں، جس سے توانائی کے شعبے پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے اور آئندہ مہینوں میں ایل پی جی مارکیٹ مزید غیر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

خلیج جنگ: ہرمز بندش سے جی ڈی پی متاثر

ایران کشیدگی بڑھی تو خلیجی معیشت کو 1990 کے بعد بڑا دھچکا لگ سکتا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے