جمعرات , اپریل 30 2026

عالمی صحافتی آزادی 25 سال کی کم ترین سطح پر

پیرس میں قائم تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں صحافتی آزادی گزشتہ پچیس برس کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جس سے میڈیا کے لیے بڑھتے ہوئے خطرات کی نشاندہی ہوتی ہے۔

تنظیم کے عالمی درجہ بندی اشاریے میں بتایا گیا ہے کہ 180 ممالک میں سے نصف سے زائد اب ’مشکل‘ یا ’انتہائی سنگین‘ زمروں میں شامل ہو چکے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کئی خطوں میں صحافت کو دباؤ اور پابندیوں کا سامنا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صرف سات ممالک ایسے ہیں جہاں صحافتی آزادی کی صورتحال ’اچھی‘ قرار دی گئی ہے، اور ان میں زیادہ تر شمالی یورپ کے ممالک شامل ہیں۔ ناروے، نیدرلینڈز اور ایسٹونیا اس فہرست میں سرفہرست ہیں، جہاں میڈیا کو نسبتاً آزاد ماحول میسر ہے۔

درجہ بندی میں فرانس پچیسویں نمبر پر ہے جبکہ امریکا چونسٹھویں نمبر پر آ گیا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں میڈیا پر دباؤ اور صحافتی آزادی میں کمی کے رجحانات دیکھے گئے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی ممالک میں صحافیوں کو قانونی کارروائیوں، ریاستی دباؤ اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے آزاد صحافت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

بھارت، مصر، ترکی، جارجیا اور ہانگ کانگ میں میڈیا کے خلاف سخت اقدامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ مشرقی یورپ اور مشرقِ وسطیٰ کو بدستور صحافیوں کے لیے سب سے خطرناک خطے قرار دیا گیا ہے۔ ان خطوں میں روس اور ایران درجہ بندی میں نچلے نمبروں پر موجود ہیں۔

رپورٹ میں غزہ کی صورتحال کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیا گیا ہے، جہاں اکتوبر 2023 سے اب تک 220 سے زائد صحافیوں کی ہلاکت رپورٹ کی گئی ہے، جو عالمی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

تنظیم کے مطابق جنگیں، معلومات تک رسائی پر پابندیاں اور ہنگامی قوانین کا غلط استعمال صحافتی آزادی میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔ یہ عوامل میڈیا کی خودمختاری کو متاثر کر رہے ہیں اور آزادانہ رپورٹنگ کو محدود کر رہے ہیں۔

رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صحافت پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور آزاد میڈیا کا دائرہ مزید سکڑ سکتا ہے، جس کے اثرات جمہوری نظاموں پر بھی مرتب ہوں گے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

OGDC منافع میں 11 فیصد کمی، پیداوار دباؤ کا شکار

کم قیمتیں اور بڑھتے اخراجات کمپنی کی کارکردگی پر اثرانداز Oil and Gas Development Company …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے