
پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2026 کے ابتدائی آٹھ ماہ میں کچھ بہتری دکھائی، تاہم بڑھتی مہنگائی، تجارتی خسارے میں اضافہ اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی نے معاشی دباؤ کو برقرار رکھا۔
وزارتِ خزانہ کی مارچ 2026 کی ماہانہ اقتصادی رپورٹ کے مطابق معیشت کی کارکردگی ملی جلی رہی، جہاں ترسیلات زر اور صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوا، وہیں بیرونی کھاتوں اور سرمایہ کاری کے شعبے میں کمزوری نمایاں رہی۔
فروری 2026 میں مہنگائی کی شرح سالانہ بنیاد پر بڑھ کر 7.0 فیصد ہوگئی، جو جنوری میں 5.8 فیصد اور گزشتہ سال اسی ماہ میں 1.5 فیصد تھی۔ رہائش، بجلی، گیس، تعلیم اور صحت کے اخراجات میں اضافے نے مہنگائی کو بڑھایا، جس سے عام شہری کی قوتِ خرید متاثر ہوئی۔
حساس قیمتوں کے اشاریے میں بھی 26 مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں 0.97 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 51 اشیاء میں سے 23 کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جو ظاہر کرتا ہے کہ بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام ابھی مکمل طور پر حاصل نہیں ہو سکا۔
بیرونی شعبہ بدستور دباؤ کا شکار رہا۔ اگرچہ فروری میں کرنٹ اکاؤنٹ 427 ملین ڈالر سرپلس رہا، تاہم جولائی تا فروری مجموعی طور پر 700 ملین ڈالر خسارہ ریکارڈ ہوا۔ اس کی بڑی وجہ بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ہے۔
تجارتی خسارہ بڑھ کر 23.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال 18.6 ارب ڈالر تھا۔ درآمدات 50.4 ارب ڈالر تک بڑھ گئیں جبکہ برآمدات 27.2 ارب ڈالر پر تقریباً جمود کا شکار رہیں۔ خاص طور پر چاول سمیت خوراکی برآمدات میں کمی نے صورتحال کو مزید متاثر کیا۔
غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری میں 33.4 فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 1.2 ارب ڈالر تک محدود رہی، جو سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اسی طرح پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں بھی 490.8 ملین ڈالر کا انخلا ریکارڈ کیا گیا۔
اگرچہ ترسیلات زر میں 10.5 فیصد اضافہ ہو کر 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو معیشت کے لیے سہارا ثابت ہوئیں، تاہم انحصار کا بڑا حصہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پر ہے، جو ایک ساختی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
مالیاتی شعبے میں بہتری دیکھی گئی، جہاں بجٹ خسارہ کم ہو کر 64.7 ارب روپے رہ گیا جو گزشتہ سال 2 ہزار ارب روپے سے زائد تھا۔ تاہم یہ بہتری اخراجات میں کمی کی وجہ سے آئی، نہ کہ پائیدار آمدنی میں نمایاں اضافے سے۔
وفاقی آمدن میں 9.3 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 11.2 کھرب روپے تک پہنچ گئی، مگر یہ اضافہ پاکستان کی مالی ضروریات کے مقابلے میں محدود سمجھا جا رہا ہے۔ بنیادی سرپلس جی ڈی پی کا 3.2 فیصد رہا، تاہم ماہرین کے مطابق اسے برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔
صنعتی شعبے میں بہتری کے آثار نظر آئے، جہاں بڑے پیمانے کی صنعتوں کی پیداوار میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا۔ تاہم یہ اضافہ چند مخصوص شعبوں تک محدود رہا، جس سے وسیع صنعتی ترقی پر سوالات اٹھتے ہیں۔
آٹو موبائل سیکٹر میں نمایاں اضافہ ہوا، جہاں ٹرک اور بسوں کی پیداوار میں 78.4 فیصد اور گاڑیوں کی پیداوار میں 52.3 فیصد اضافہ ہوا، تاہم ماہرین اسے کم بنیاد کے اثر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
زرعی شعبے میں بھی ملے جلے رجحانات دیکھنے میں آئے۔ گندم کی پیداوار کا ہدف 29.7 ملین ٹن رکھا گیا ہے، تاہم حتمی پیداوار کا انحصار موسم پر ہوگا۔ زرعی قرضوں میں 11.1 فیصد اضافہ ہوا، لیکن پانی کی قلت اور لاگت میں اضافہ بدستور چیلنج ہیں۔
توانائی کا شعبہ عالمی حالات سے متاثر ہو رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے زائد رہیں، جس سے درآمدی بل اور مہنگائی پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بھی مندی کا رجحان رہا، جہاں کے ایس ای-100 انڈیکس میں 16 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی ہوئی جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں تقریباً 1.9 کھرب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 21.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئے، تاہم یہ اضافہ بیرونی معاونت پر منحصر ہے اور اس کی پائیداری پر سوالات موجود ہیں۔
مرکزی بینک نے شرح سود 10.5 فیصد پر برقرار رکھی، جس سے مہنگائی پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے، مگر اس سے کاروباری لاگت اور نجی سرمایہ کاری متاثر ہو رہی ہے۔
عالمی معاشی حالات بھی خطرات بڑھا رہے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین کی رکاوٹیں اور جغرافیائی کشیدگی پاکستان کی معیشت پر دباؤ ڈال سکتی ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق مارچ میں مہنگائی 7.5 سے 8.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ صارفین کو مزید مشکلات کا سامنا رہ سکتا ہے۔
اگرچہ بعض شعبوں میں بہتری کے آثار ہیں، مگر بنیادی معاشی مسائل اب بھی موجود ہیں۔ برآمدات میں اضافہ، توانائی اصلاحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے بغیر موجودہ بہتری دیرپا ثابت ہونا مشکل ہو سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead