
Cambridge International Education نے پاکستان میں اے ایس لیول ریاضی کے مبینہ پرچہ لیک ہونے کے معاملے پر باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں، جس کے بعد امتحانی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔
یہ معاملہ جون 2026 کے امتحانی سیشن کے پیپر ون (Pure Mathematics 1، 9709/12 ویریئنٹ) سے متعلق ہے، جو 29 اپریل کو منعقد ہوا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق یہ پرچہ اور اس کے حل شدہ جوابات امتحان سے کئی گھنٹے قبل سوشل میڈیا، واٹس ایپ گروپس اور دیگر میسجنگ ایپس پر گردش کرنے لگے تھے۔
طلبہ کے مطابق پرچہ صبح 3 سے 4 بجے کے درمیان آن لائن سامنے آیا، جبکہ بعض کا دعویٰ ہے کہ یہ امتحان سے 7 سے 12 گھنٹے پہلے ہی لیک ہو چکا تھا۔ اس صورتحال نے ہزاروں امیدواروں کے لیے امتحان کی شفافیت اور برابری کے اصول کو متاثر کیا ہے۔
اپنے بیان میں Cambridge International Education نے کہا کہ وہ اس نوعیت کی تمام رپورٹس کا سنجیدگی سے جائزہ لیتا ہے اور مکمل تحقیقات جاری ہیں۔ ادارے نے واضح کیا کہ حتمی نتائج اور ممکنہ اقدامات کا اعلان جون 2026 کے امتحانی سلسلے کے اختتام کے بعد کیا جائے گا۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پورا پرچہ لیک ہوا یا صرف چند سوالات سامنے آئے، تاہم ادارے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ امتحانی مراکز کو ضروری معلومات بروقت فراہم کی جائیں گی۔
اس واقعے پر طلبہ اور والدین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر متعدد طلبہ نے اس صورتحال کو ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ محنت کرنے والے امیدوار متاثر ہو رہے ہیں جبکہ لیک ہونے والا پرچہ دیکھنے والوں کو غیر منصفانہ فائدہ حاصل ہوا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ 2025 میں بھی Cambridge International Education نے بعض ریاضی اور کمپیوٹر سائنس کے پرچوں میں جزوی لیک ہونے کا اعتراف کیا تھا، جس کے بعد متاثرہ سوالات پر مکمل نمبر دینے جیسے اقدامات کیے گئے تھے۔
طلبہ کی جانب سے اب British Council پاکستان سے بھی جواب طلب کیا جا رہا ہے، تاہم تاحال اس ادارے کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق بار بار ایسے واقعات سامنے آنا امتحانی نظام میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے، خاص طور پر ایسے مضامین میں جہاں مقابلہ زیادہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں ہر سال ہزاروں طلبہ کیمبرج امتحانات دیتے ہیں، اس لیے اس نظام کی ساکھ برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔
ممکنہ اقدامات میں متاثرہ پرچے کی منسوخی، گریڈ ایڈجسٹمنٹ یا اکتوبر/نومبر 2026 سیشن میں مفت ری امتحان کی سہولت شامل ہو سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ تنازع ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ امتحانی سیکیورٹی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، جبکہ Cambridge International Education کی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead