سوشل میڈیا پر سوالیہ پرچہ اور حل شدہ جوابات وائرل

دنیا کے معروف امتحانی نظام Cambridge International کے تحت جاری مئی-جون سیشن کے دوران اے ایس ریاضی کا پرچہ لیک ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد طلبہ اور والدین میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اے ایس ریاضی ون (Pure Mathematics 1، کوڈ 9707 کا پرچہ امتحان سے قبل سوشل میڈیا پر گردش کرتا رہا۔ یہ پرچہ بدھ کی دوپہر پاکستان اور خطے میں منعقد ہوا، تاہم منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہی مبینہ طور پر غیر حل شدہ اور بعد ازاں حل شدہ پرچہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ریڈٹ پر وائرل ہو گیا۔
متاثرہ طلبہ کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر سوالیہ پرچہ فروخت کیا گیا اور بعد میں اس کے حل شدہ جوابات بھی مختلف واٹس ایپ گروپس کے ذریعے پھیل گئے، جس سے امتحان کی شفافیت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
کیمبرج کے سیکیورٹی ضوابط کے مطابق سوالیہ پرچے امتحانی مراکز سے باہر لے جانا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ طلبہ کو پرچے پر ہی جوابات لکھنے ہوتے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر ایک نامعلوم شخص نے پرچہ لیک کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے مزید پرچے جاری کرنے کی دھمکی بھی دی ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ اور بلوچستان سمیت مختلف علاقوں کے طلبہ نے اس معاملے پر اسکول انتظامیہ سے رابطہ کیا اور اپنی شکایات درج کروائیں، تاہم انتظامیہ نے طلبہ سے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
ادھر میڈیا رپورٹس کے مطابق Cambridge International کے پاکستان میں کنٹری ہیڈ سے رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پرچہ لیک ہونے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ نہ صرف طلبہ کی محنت پر اثر انداز ہوگا بلکہ بین الاقوامی امتحانی نظام کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں ہر سال ہزاروں طلبہ Cambridge International کے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں، اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی مستقبل کے نتائج اور داخلوں پر اثر ڈال سکتی ہے۔
UrduLead UrduLead