بدھ , اپریل 29 2026

اوپن اے آئی کے خلاف تحقیقات شروع

چیٹ جی پی ٹی کے استعمال پر امریکی حکام کی کارروائی

امریکی ریاست فلوریڈا میں دو بنگلادیشی طلبہ کے قتل کے معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے، جہاں حکام نے OpenAI کے خلاف فوجداری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، کیونکہ مرکزی ملزم کی جانب سے چیٹ جی پی ٹی کے استعمال کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

یہ واقعہ 16 اپریل کو پیش آیا جب University of South Florida میں زیرِ تعلیم دو بنگلادیشی طلبہ لاپتہ ہو گئے تھے۔ بعد ازاں 24 اپریل کو جمیل لیمون کی لاش ایک پل کے قریب کچرے کے تھیلے سے برآمد ہوئی، جبکہ طالبہ ناہیدہ برسٹی کی مبینہ باقیات ایک نہر سے ملی ہیں، تاہم حکام نے تاحال ان باقیات کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

پولیس نے ملزم حشام ابو غربہ کو گرفتار کر لیا ہے، جو مقتول جمیل لیمون کا روم میٹ بھی تھا۔ پراسیکیوٹر کے مطابق ملزم نے واردات سے قبل چیٹ جی پی ٹی پر انسانی لاش کو ٹھکانے لگانے اور جرم چھپانے سے متعلق متعدد سوالات کیے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق، ملزم اور چیٹ جی پی ٹی کے درمیان مبینہ گفتگو میں ایسے سوالات شامل تھے جیسے لاش کو کچرے کے تھیلے میں رکھنے کا طریقہ، گولی لگنے کے بعد زندہ بچنے کے امکانات، گاڑی کا شناختی نمبر تبدیل کرنا، اور کیا پڑوسی گولی کی آواز سن سکتے ہیں۔

تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ یہ سوالات واردات سے چند دن پہلے سے لے کر لاش کی دریافت سے چند گھنٹے قبل تک کیے گئے۔ پولیس کے مطابق ملزم کو پہلی لاش ملنے کے چند گھنٹوں بعد گرفتار کیا گیا۔

فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اتھمیر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ حکام اس کیس میں OpenAI کے کردار کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات کو وسعت دی جا رہی ہے کیونکہ ملزم نے چیٹ جی پی ٹی استعمال کیا تھا۔

دوسری جانب مقتولین کے اہل خانہ نے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔ جمیل لیمون کے بھائی کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ نہ صرف ان کے خاندان بلکہ امریکہ میں زیرِ تعلیم تمام بین الاقوامی طلبہ کے لیے باعثِ تشویش ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ کیس امریکہ میں مصنوعی ذہانت کی کمپنیوں کی قانونی ذمہ داریوں کے حوالے سے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، کیونکہ حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا OpenAI کو باضابطہ طور پر اس مقدمے میں شامل کیا جائے یا نہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال اور اس کے ممکنہ غلط استعمال پر بحث تیز ہو رہی ہے، اور قانون ساز ادارے اس شعبے کے لیے واضح ضوابط بنانے پر غور کر رہے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

40 یونیورسٹی سب کیمپسز قائم کرنے کا اعلان

حکومت کا اعلیٰ تعلیم تک رسائی بڑھانے کا بڑا فیصلہ صوبائی حکومت نے اعلیٰ تعلیم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے