اخراجات اور کمزور طلب نے کارکردگی پر دباؤ ڈال دیا

Pakistan State Oil نے 31 دسمبر 2025 کو ختم ہونے والی ششماہی مدت میں منافع میں معمولی اضافہ رپورٹ کیا ہے، تاہم فروخت میں کمی اور بڑھتے اخراجات نے کمپنی کی مجموعی کارکردگی کو متاثر کیا ہے۔
کمپنی نے اس عرصے میں بعد از ٹیکس منافع 12.12 ارب روپے حاصل کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 11.17 ارب روپے تھا، یوں منافع میں تقریباً 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ فی حصص آمدنی بھی بڑھ کر 25.82 روپے ہو گئی، جو پہلے 23.81 روپے تھی۔
تاہم کمپنی کی فروخت میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جہاں خالص فروخت 1.49 کھرب روپے رہی جبکہ گزشتہ سال یہ 1.62 کھرب روپے تھی۔ مجموعی فروخت بھی کم ہو کر 1.60 کھرب روپے پر آ گئی، جو اس سے قبل 1.74 کھرب روپے تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی طلب اور قیمتوں میں دباؤ موجود ہے۔
لاگت میں کمی کے باعث کمپنی نے کسی حد تک توازن برقرار رکھا، جہاں فروخت کی لاگت 1.45 کھرب روپے رہی، جس کے نتیجے میں مجموعی منافع 47.1 ارب روپے رہا، تاہم یہ گزشتہ سال کے 50.7 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہے، جو مارجن میں دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔
دیگر آمدنی بھی کم ہو کر 8.63 ارب روپے رہ گئی، جو پہلے 10.32 ارب روپے تھی، جس سے غیر بنیادی ذرائع سے آمدنی میں کمی ظاہر ہوتی ہے ۔
آپریٹنگ اخراجات میں اضافہ ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا، جو بڑھ کر 16.55 ارب روپے ہو گئے، جبکہ گزشتہ سال یہ 15.62 ارب روپے تھے۔ ڈسٹری بیوشن اور مارکیٹنگ اخراجات 10.73 ارب روپے تک پہنچ گئے جبکہ انتظامی اخراجات 3.71 ارب روپے رہے، جو مہنگائی اور آپریشنل دباؤ کی عکاسی کرتے ہیں۔
مالی لاگت اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہو کر 11.39 ارب روپے رہی، تاہم یہ اب بھی بلند سطح پر ہے، جو کمپنی کے قرضوں پر انحصار کو ظاہر کرتی ہے۔ کمپنی نے ایسوسی ایٹس سے معمولی نقصان بھی رپورٹ کیا۔
ٹیکس سے قبل منافع 23.06 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال کے 20.77 ارب روپے سے زیادہ ہے، تاہم ٹیکس اخراجات بڑھ کر 10.93 ارب روپے ہو گئے، جس سے خالص منافع کی رفتار محدود رہی۔
دسمبر 2025 کی سہ ماہی میں Pakistan State Oil کا منافع 2.73 ارب روپے رہا، جو گزشتہ سال اسی مدت کے 7.21 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں کمی کو ظاہر کرتا ہے، جس سے آمدنی میں اتار چڑھاؤ ظاہر ہوتا ہے۔
بیلنس شیٹ کے مطابق کمپنی کے کل اثاثے 998.8 ارب روپے رہے، جو پہلے 1.02 کھرب روپے تھے۔ کرنٹ اثاثے کم ہو کر 914.7 ارب روپے رہ گئے، جبکہ نقد اور بینک بیلنس نمایاں طور پر کم ہو کر 19.09 ارب روپے رہ گیا، جو پہلے 53.99 ارب روپے تھا، اس سے لیکویڈیٹی دباؤ ظاہر ہوتا ہے۔
کمپنی کی ایکویٹی بڑھ کر 257.1 ارب روپے ہو گئی، جبکہ مجموعی واجبات کم ہو کر 741.7 ارب روپے رہ گئے۔ تاہم کرنٹ واجبات 714.9 ارب روپے کی بلند سطح پر برقرار ہیں، جس میں قلیل مدتی قرضے 325.5 ارب روپے شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق Pakistan State Oil کی کارکردگی ملی جلی رہی، جہاں منافع میں اضافہ ہوا لیکن فروخت، لیکویڈیٹی اور اخراجات کے مسائل برقرار ہیں۔ توانائی کا شعبہ بدستور سرکلر ڈیٹ، قیمتوں کے دباؤ اور کمزور طلب جیسے چیلنجز سے دوچار ہے۔
آنے والے عرصے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ کمپنی کے لیے ضروری ہے کہ وہ وصولیوں کو بہتر بنائے، اخراجات کو کنٹرول کرے اور قرضوں پر انحصار کم کرے تاکہ منافع کو مستحکم رکھا جا سکے اور بدلتے معاشی حالات میں اپنی پوزیشن مضبوط بنائی جا سکے۔
UrduLead UrduLead