جمعرات , اپریل 30 2026

ملک ریاض اور ان کے بیٹے کے خلاف ریڈ نوٹس جاری

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض ملک کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔

نیب کے ترجمان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بدھ کے روز صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) نذیر احمد نے یہ بات بتائی کہ دونوں شخصیات کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

چیئرمین نیب کے مطابق یہ ریڈ نوٹس مبینہ طور پر ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں ہونے والی کرپشن کے مقدمات کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں۔

ریڈ نوٹس انٹرپول کی جانب سے رکن ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کی جانے والی ایک درخواست ہوتی ہے، جس کا مقصد کسی مطلوب شخص کو تلاش کرنا، اس کی ممکنہ گرفتاری یا قانونی کارروائی میں مدد حاصل کرنا ہوتا ہے۔ تاہم انٹرپول کے مطابق یہ نوٹس کسی بھی صورت میں بین الاقوامی وارنٹِ گرفتاری نہیں ہوتا۔

دوسری جانب بی بی سی نے اس معاملے پر انٹرپول کے پریس آفس سے رابطہ کیا ہے، لیکن ابھی تک اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

اسی گفتگو کے دوران نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز نے یہ بھی بتایا کہ ملک ریاض کے خلاف 900 ارب روپے سے زائد کی مبینہ کرپشن سے متعلق تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں۔

بحریہ ٹاؤن کے بانی ملک ریاض اس وقت متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ ان کی کمپنی کے مطابق وہ دبئی ساؤتھ میں ایک بڑے رہائشی اور تجارتی منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے، جو المکتوم ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے۔

انٹرپول کی وضاحت کے مطابق ریڈ نوٹس کا مقصد دنیا بھر میں کسی فرد کی تلاش میں مدد لینا ہوتا ہے، اور اس پر عملدرآمد ہر ملک اپنے قوانین کے تحت کرتا ہے۔

اس سے قبل بھی نیب یہ دعویٰ کر چکا ہے کہ حکومت پاکستان قانونی ذرائع سے متحدہ عرب امارات سے ملک ریاض کی حوالگی کے لیے رابطے میں ہے۔

نیب کے سابق پراسیکیوٹر عمران شفیق کے مطابق ریڈ نوٹس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ شخص کسی مقدمے میں مطلوب ہے، تاہم اس کے بعد گرفتاری اور حوالگی کا فیصلہ متعلقہ ملک کے قوانین اور عدالتیں کرتی ہیں۔

اسی طرح سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر منصف جان کا کہنا ہے کہ ریڈ نوٹس کے باوجود عملدرآمد کا انحصار ممالک کے باہمی تعلقات پر بھی ہوتا ہے، اور موجودہ حالات میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات کی نوعیت اس عمل پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ملک ریاض اور ان کا ادارہ بحریہ ٹاؤن گزشتہ کئی برسوں سے مختلف قانونی معاملات کا سامنا کر رہا ہے، جن میں سرکاری اور نجی زمینوں سے متعلق تنازعات بھی شامل ہیں۔ وہ ان تمام الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔

القادر ٹرسٹ کیس میں بھی انہیں مفرور قرار دیا جا چکا ہے، جس سے متعلق نیب کا مؤقف ہے کہ یہ معاملہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور معاہدوں سے جڑا ہوا ہے۔

دوسری جانب ملک ریاض ماضی میں یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائیاں غیر منصفانہ ہیں اور وہ عدالتوں میں اپنا دفاع کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

About Aftab Ahmed

Check Also

PSO مالی نتائج: فروخت میں کمی برقرار

اخراجات اور کمزور طلب نے کارکردگی پر دباؤ ڈال دیا Pakistan State Oil نے 31 …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے