پیر , مارچ 16 2026

خلیج جنگ: ہرمز بندش سے جی ڈی پی متاثر

ایران کشیدگی بڑھی تو خلیجی معیشت کو 1990 کے بعد بڑا دھچکا لگ سکتا ہے

ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ جنگ کی صورتحال کے باعث خلیجی معیشت کو شدید دھچکا لگنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہوئی تو خطے کے کئی ممالک کو 1990 کے بعد بدترین معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کا اہم ترین راستہ ہے اور اس کی بندش خلیجی ممالک کی برآمدات، تیل کی ترسیل اور مالیاتی استحکام کو براہ راست متاثر کرسکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر عالمی گزرگاہ تقریباً دو ماہ تک بند رہی تو بعض خلیجی ممالک کی مجموعی قومی پیداوار میں نمایاں کمی آسکتی ہے جبکہ قطر اور کویت سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہوسکتے ہیں کیونکہ ان کی معیشت کا بڑا حصہ توانائی برآمدات پر انحصار کرتا ہے۔

تجزیے کے مطابق طویل بندش کی صورت میں بعض ممالک کی جی ڈی پی میں 14 فیصد تک کمی کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی معیشت بھی دباؤ میں آسکتی ہے اور ان کی اقتصادی شرح نمو میں 3 سے 5 فیصد تک کمی ہوسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک کی معیشتیں تیل اور گیس کی برآمدات سے جڑی ہوئی ہیں اور عالمی منڈی تک رسائی میں رکاوٹ براہ راست سرکاری آمدنی، بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں کو متاثر کرتی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی سمندری تیل تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتی ہے جبکہ قطر کی مائع قدرتی گیس کی برآمدات کا بڑا حصہ بھی اسی راستے سے عالمی منڈی تک پہنچتا ہے۔ اسی وجہ سے کسی بھی فوجی تصادم یا بحری ناکہ بندی کو عالمی معیشت کے لیے بڑا خطرہ سمجھا جاتا ہے اور ماضی میں بھی خطے میں کشیدگی بڑھنے پر تیل کی قیمتوں میں فوری اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ادھر خطے کی سیاسی قیادت نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید کے درمیان رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے ایرانی حملوں کو خطے کے امن اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خلیجی ممالک کے دفاع اور توانائی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور کسی بھی جارحیت کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں۔

سفارتی سطح پر بھی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ایران پر زور دیا کہ وہ پڑوسی ممالک پر حملے فوری طور پر بند کرے۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ لبنان، عراق اور خلیجی خطے میں کشیدگی بڑھنا عالمی امن کے لیے خطرہ ہے اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت جلد بحال ہونی چاہیے تاکہ توانائی کی عالمی سپلائی متاثر نہ ہو۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتوں میں تیزی، شپنگ انشورنس لاگت میں اضافہ اور برآمدات میں رکاوٹ خلیجی معیشتوں کو شدید دباؤ میں لاسکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی طویل تعطل کی صورت میں نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ ایشیا اور یورپ کی معیشتیں بھی متاثر ہوں گی اور عالمی توانائی منڈی میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ سکتی ہے۔

About Aftab Ahmed

Check Also

ایل پی جی قیمتیں: اوگرا کنٹرول میں ناکام

پیٹرول مہنگا ہونے کے بعد ایل پی جی 350 روپے فی کلو تک، اوگرا نرخ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے