حکومت نے عالمی کشیدگی کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کرتے ہوئے سپلائی برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرا دی

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کے بعد حکومت نے ایک ہفتے کے لیے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جس سے مہنگائی کے مزید دباؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 19.39 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 399.58 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے، جبکہ پیٹرول کی قیمت 6.51 روپے اضافے کے بعد 399.86 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کا زیادہ استعمال ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے میں ہوتا ہے، جہاں اس اضافے سے لاگت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بوائی کے جاری سیزن میں ڈیزل مہنگا ہونے سے زرعی پیداوار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے، جبکہ پہلے ہی کھاد اور دیگر زرعی اخراجات بڑھ چکے ہیں۔

دوسری جانب پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عام صارفین، خصوصاً موٹرسائیکل اور کار استعمال کرنے والوں کے لیے اضافی بوجھ بنے گا۔ پنجاب میں سی این جی کی محدود دستیابی کے باعث پیٹرول کی طلب پہلے ہی زیادہ ہے، جس سے قیمتوں کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔
عالمی سطح پر صورتحال بھی غیر یقینی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
ادھر حکومت نے پیٹرول پمپس کی بندش سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت پاکستان کے پاس تقریباً 28 دن کا پیٹرول اور 34 دن کا ڈیزل ذخیرہ موجود ہے اور تمام پیٹرول پمپس معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (OCAC) اور اوگرا حکام نے بھی سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ہڑتال اور سپلائی معطل ہونے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ترجمان اوگرا کا کہنا ہے کہ کسی بھی پیٹرولیم ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کا اعلان نہیں کیا گیا۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں پر یقین نہ کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں، جبکہ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آئندہ ہفتوں میں بھی مقامی قیمتوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
UrduLead UrduLead