
پاکستان کی الیکٹرک وہیکل مارکیٹ میں نورا ای وی کے نام سے نئی گاڑی متعارف کرا دی گئی ہے، کمپنی نے کم قیمت شہری الیکٹرک کار کے طور پر پیش کیا جبکہ مختلف ورژنز کی قیمت 1.889 ملین سے 2.299 ملین روپے تک رکھی گئی ہے۔
پاکستان کی الیکٹرک وہیکل مارکیٹ میں ایک نئے برانڈ نورا ای وی کے باقاعدہ داخلے کے ساتھ مقامی سطح پر نسبتاً کم قیمت الیکٹرک کار متعارف کرا دی گئی ہے، کمپنی کے مطابق یہ گاڑی شہری استعمال کے لیے تیار کی گئی ہے اور اسے تین مختلف ورژنز میں پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کی ویب سائٹ پر جاری تفصیلات کے مطابق نورا ای وی ایکو ماڈل کی قیمت 1,889,000 روپے، ایکو پلس کی قیمت 2,099,000 روپے جبکہ ایکو ایکس ماڈل کی قیمت 2,299,000 روپے مقرر کی گئی ہے، جس کا مقصد ایسے خریداروں کو متوجہ کرنا ہے جو پٹرول گاڑی کے متبادل کے طور پر سستی الیکٹرک سواری چاہتے ہیں۔
آٹو انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کی بڑی وجہ پٹرول اور ڈیزل کی بلند قیمتیں اور حکومت کی ماحول دوست پالیسی ہے، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کی 2020 کی الیکٹرک وہیکل پالیسی کے مطابق حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک ملک میں 30 فیصد گاڑیاں الیکٹرک ہوں۔
نورا ای وی ایک کمپیکٹ چار نشستوں والی گاڑی ہے جس کی لمبائی 2900 ملی میٹر، چوڑائی 1450 ملی میٹر اور اونچائی 1600 ملی میٹر ہے جبکہ وہیل بیس 1900 ملی میٹر اور گراؤنڈ کلیئرنس 160 ملی میٹر رکھی گئی ہے، کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سائز شہری ٹریفک کے مطابق رکھا گیا ہے۔
گاڑی میں 3000 واٹ کی الیکٹرک موٹر اور 72 وولٹ 120 ایمپیئر آور بیٹری پیک نصب ہے جسے بیرونی چارجر کے ذریعے مکمل چارج ہونے میں تقریباً 6 سے 8 گھنٹے لگتے ہیں جبکہ اس کی زیادہ سے زیادہ رفتار تقریباً 65 کلومیٹر فی گھنٹہ بتائی گئی ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ نورا ای وی پاکستان کی پہلی ایسی الیکٹرک کار ہے جس میں بیٹری سوئپ سسٹم دیا گیا ہے، اس سہولت کے تحت بیٹری تبدیل کرکے چند سیکنڈ میں دوبارہ گاڑی چلائی جا سکتی ہے، ماہرین کے مطابق بیٹری سوئپ ٹیکنالوجی کم فاصلے کے شہری سفر کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے۔
مختلف ورژنز کے لحاظ سے اس گاڑی کی رینج 120 کلومیٹر تک بتائی گئی ہے جبکہ ایکو ایکس ماڈل 160 کلومیٹر تک چل سکتا ہے، کمپنی کے مطابق رینج ایکسٹینڈر کے استعمال سے یہ مسافت تقریباً 300 کلومیٹر تک بڑھائی جا سکتی ہے۔
آٹو سیکٹر کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت ابھی مجموعی مارکیٹ کا چھوٹا حصہ ہے، تاہم انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں الیکٹرک بائیکس، رکشوں اور چھوٹی گاڑیوں کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے، جس کی وجہ درآمدی ایندھن پر بڑھتا خرچ بتایا جاتا ہے۔
نورا ای وی میں 12 انچ الائے وہیلز، چاروں پہیوں میں ڈسک بریک، ٹیلِسکوپک سسپنشن، ریورسنگ کیمرہ، بلوٹوتھ ملٹی میڈیا، پاور ونڈوز، ایئر کنڈیشننگ اور الیکٹرانک لاک جیسی سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں جبکہ ایکو اور ایکو پلس تین رنگوں میں اور ایکو ایکس پندرہ رنگوں میں دستیاب ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کم قیمت الیکٹرک گاڑیاں مقامی سطح پر دستیاب رہیں تو پاکستان میں ای وی مارکیٹ تیزی سے بڑھ سکتی ہے، کیونکہ درآمدی ایندھن کا بل کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی گھٹانے کے لیے حکومت بھی الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ پر زور دے رہی ہے، اور نورا ای وی کا تعارف اسی رجحان کا تازہ اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
UrduLead UrduLead